کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کی مرکزی قیادت نے وفاقی بجٹ 2025-26 کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے آئی ایم ایف کا مسلط کردہ اور عوام دشمن بجٹ قرار دیا ہے۔ قائمقام امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی جنرل سیکریٹری مفتی شفیع الدین، صوبائی امیر خیبرپختونخوا قاضی گل الرحمن نکیال، پنجاب کے امیر مولانا ثنا اللہ، سندھ کے امیر مولانا عزیز احمد شاہ امروٹی، مرکزی نائب امیر مولانا عبدالروف، سرپرست اعلی مولانا ڈاکٹر شمس الہدی اور دیگر رہنماں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اس بجٹ نے سفید پوش طبقے سے لے کر غریب عوام تک سب کا خون نچوڑ ڈالا ہے۔رہنماوں کا کہنا تھا کہ بجٹ میں عوام کی فلاح و بہبود، روزگار، مہنگائی سے ریلیف یا خوشحالی کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا، بلکہ دفاعی اخراجات میں اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی اور ٹیکسز کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ حکومت اپنی شاہانہ مراعات، وزرا کی تنخواہیں اور اخراجات کم کرنے کو تیار نہیں، بلکہ عوام پر ہر جائز و ناجائز بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں واقعی معاشی ترقی ہو رہی ہے تو پھر سال بھر میں 7 لاکھ 27 ہزار سے زائد افراد کیوں ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے؟ درحقیقت حکومت کے پاس نہ کوئی معاشی وژن ہے اور نہ کوئی خودمختار پالیسی، جس کے باعث ملک قرضوں میں دھنستا جا رہا ہے اور استحکام کے تمام دعوے جھوٹ کا پلندہ ہیں۔جے یو آئی نظریاتی قیادت نے کہا کہ موجودہ بجٹ “غریب مکا پالیسی” کا عملی مظاہرہ ہے جس نے محنت کشوں، ملازمین، اور کسانوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس معاشی غلامی اور عوام دشمنی کے خلاف میدان میں آئیں۔
آئی ایم ایف کی مسلط کردہ بجٹ کو مسترد کرتے ہیں، قادر لونی

