کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ، جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل نے اسمنگلی روڈ پر فلائی اوور کی تعمیر سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے منصوبے پر 4200 ملین روپے اخراجات کے امکان کے پیش نظر پروجیکٹ ڈائریکٹر وزیر اعلی بلوچستان منصوبہ برائے تعمیر کوئٹہ کو فلائی اوور کی تعمیر سے روک دیا۔عدالت نے کم لاگت منصوبہ لانے کی ہدایت کرتے ہوئے انڈر پاس کی تعمیر پر غور کرنے کا حکم دیا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے مشرق سے مغرب تک انڈر پاس کی تجویز پر کام کرنے اور نیا سروے کرانے کے لیے وقت مانگا جسے عدالت نے منظور کر لیا۔بلوچستان ہائی کورٹ نے ہدایت کی کہ فلائی اوور اور انڈر پاس دونوں صورتوں میں زمین کے حصول اور لاگت کا تقابلی جدول بھی تیار کیا جائے۔ عدالت نے حکم دیا کہ اگلے احکامات تک فلائی اوور منصوبے پر مزید کوئی کام نہ کیا جائے دریں اثناء عدالت عالیہ بلوچستان میں زرغون روڈ پر جاری ترقیاتی کام کی پیشرفت سے متعلق دائر آئینی درخواست پر جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی ڈویژنل بینچ نے سماعت کی۔پروجیکٹ ڈائریکٹر وزیراعلی بلوچستان منصوبہ برائے تعمیر کوئٹہ محمد رفیق بلوچ نے ایڈووکیٹ اسحاق ناصر کے ہمراہ عدالت کے روبرو پیشرفت رپورٹ جمع کرائی۔ رپورٹ کے مطابق، سریاب پل/سی این جی پمپ سے اے جی آفس تک بجلی کے کھمبوں کے لیے کھدائی مکمل ہو چکی ہے اور 220 میٹر کا کام پایہ تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔ سائنس کالج اور پرنس روڈ چوراہے پر سلپ روڈز کے ڈیزائن اور لے آٹ مکمل ہو چکے ہیں جبکہ زمین کے حصول اور متعلقہ اداروں سے این او سی کے حصول کی کوششیں جاری ہیں۔متاثرہ کمروں کی متبادل تعمیر، اے جی آفس اور ڈی ای این پاکستان ریلوے کے ساتھ دیوار کی تعمیر کی اجازت، اور یوٹیلیٹی لائنوں کی منتقلی کے امور زیر غور ہیں۔ ویکیوم کلیننگ مشین خرید کر انسکمب سائٹ پر آزمائش کی گئی اور شجرکاری بھی جاری ہے۔ڈیزائنر ڈاکٹر ملک ثاقب کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سریاب پل، سریاب پھاٹک چوراہا، پشین اسٹاپ، چمن پھاٹک کے رابطہ منصوبے اور دیگر متعلقہ مقامات کی ازسرنو ڈیزائننگ کے لیے جلد عدالت میں رپورٹ پیش کریں۔ زرغون روڈ کے مغربی جانب ڈرین کا کام جاری ہے تاہم یوٹیلیٹی کوریڈور کی تکمیل میں تاخیر کا سامنا ہے۔معزز ججز نے تمام یوٹیلٹی سروسز فراہم کرنے والے اداروں کو بروقت لائنوں کی منتقلی یقینی بنانے کا حکم دیا۔ مزید برآں، ریجنل اکانٹس اکیڈمی کوئٹہ کے ڈائریکٹر سید محمد قدیر نے ریونیو ریکارڈ اور زمین کے استعمال سے متعلق تفصیلات عدالت میں پیش کیں۔ عدالت کے نوٹس میں آیا کہ ریلوے کی جانب سے ریجنل اکانٹس اکیڈمی کو تقریبا 10,000 مربع فٹ جگہ فراہم نہیں کی گئی ہے، جبکہ زرغون روڈ توسیع کے لیے تقریبا 15,000 مربع فٹ زمین استعمال ہونی ہے۔ڈائریکٹر اکیڈمی نے عدالت سے استدعا کی کہ اکیڈمی کے لیے 10,000 مربع فٹ جگہ کار پارکنگ کے لیے مختص کی جائے۔ ہاکی چوک پر سلپ روڈ کی تعمیر کے لیے بانڈری والز مکمل کر دی گئی ہیں اور عدالت نے فوری طور پر تعمیراتی کام شروع کرنے کا حکم دیا۔ امداد چوک پر میتھوڈسٹ چرچ کی زمین کے معاملے میں، عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ سیلولر ٹاور کی منتقلی کے بعد زمین دستیاب ہو گی۔عدالت عالیہ بلوچستان نے زور دیا کہ زرغون روڈ توسیعی منصوبہ شہر کے شمال اور جنوب کے درمیان اہم رابطہ ہے، لہذا تمام ادارے اپنے اپنے ذمے کاموں کو بروقت مکمل کریں اور اگلی سماعت پر منصوبے کی رپورٹ وفاقی اور صوبائی اداروں کے سربراہان کے دستخطوں کے ساتھ پیش کی جائے۔
بلوچستان ہائی کورٹ کا سمنگلی فلا ئی اوورمنصوبے پر پابندی،زرغون روڈ توسیعی منصوبے کی رفتار تیز کرنے کا حکم

ٹیگز:
بلوچستان ہائی کورٹ
