کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی کی زیر صدارت سماجی و سیاسی کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ زاہد سلیم، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے سماجی پہلووں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ایپیکس کمیٹی کے منظور شدہ نکات کا جامع جائزہ لیا گیا اور مختلف اہم امور زیر غور لائے گئے.اجلاس کے دوران جن نکات پر خصوصی توجہ دی گئی ان میں پیفٹاک کا قیام، جے آر سی اور جے سی پی کے قیام، لاپتہ افراد کا مسئلہ، حوالہ و انڈی کے امور، بلوچستان انٹیگریٹڈ سیکیورٹی آرکیٹیکچر، غیر قانونی افغان شہریوں کی میپنگ و مستقبل کا لائحہ عمل، اور پاک افغان سرحد پر منقسم دیہات کا مسئلہ شامل تھے۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سماجی و سیاسی کمیٹی کا قیام بلوچستان میں پائیدار امن، استحکام اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک اہم اقدام ہے، جو مقامی سطح پر حکومتی اقدامات کو موثر اور مربوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ علاوہ ازیں، بی آئی ایس اے کے 28 نکات، جن میں تخریب کاری سے متعلق تمام امور شامل ہیں، کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ ایک جامع، موثر اور ہمہ جہتی پالیسی تشکیل دی جا سکے۔ اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی ہر ماہ باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرے گی تاکہ طے شدہ اقدامات پر عملدرآمد کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔
سماجی و سیاسی کمیٹی کا قیام بلوچستان میں پائیدار امن، استحکام اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے ایک اہم اقدام ہے،میرشعیب نوشیروانی

ٹیگز:
میرشعیب نوشیروانی
