کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)سابق وزیر اعلی بلوچستان چیف آف ساراوان نواب محمد اسلم رئیسانی نے سماجی رابطے ویب سایٹ (ایکس) پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی سردار اخترمینگل کے معاملہ میں ذاتی دلچسپی لیں مسلہ حل کریں ظلم کے مارے بلوچ فکرمند اپنے لاپتہ پیاروں کے بازیابی کے لیے مجبورا روڈپہ دھرنے دے کر پیٹھے ہوئے ہیں، حق حکمرانی اور وسائل پہ دسترس کی آواز بلند کیے ہوئے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں، اب بلوچستان کو 5 حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش ہو رہی ہے جو کسی بلوچ کو قبول نہیں، بلوچ آزادی پسندوں کی خون کی سرخی اور ریاستی توپ خانے کی بارود کا سیا دھواں زیادہ نمایاں نظر آ رہا ہے پختون خواہ میں دہشتگردی کے مارے غمگین پشتون حالیہ دنوں بنوں سٹیڈیم میں اپنے پیاروں کا نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں اسی کے ساتھ وزیرستان سوات وغیرہ کی تباہی کے بعد امن اور قومی حقوق کے تلاش میں سرگرداں لیکن مملکت ناپرسان کو پروا نہیں سندھی ایوانِ صدر اور مخلوط حکومت میں دریا کی ماں خشک سندھو دریا میں اپنے حصہ کا پانی تلاش کر رہے ہیں اوپر والے کینسل کھود کر پانی کا رخ اپنے لیے موڑ لیا ہے اور جنوب کے طرف سندھو دریا ریگستان میں تبدیل ہو گیا ہے پنجاب میں اربوں روپے کے سٹیڈیم تعمیر کیے پنجابی قذافی سٹیڈیم میں خوشی خوشی دوسرے ممالک کے کرکٹ میچ کے مزے لے رہے ہیں لیکن اپنا ٹیم نہیں بنا سکے آزاد کشمیر 77سال سے گرفتار خوار زار، جہاں بڑے بڑے افسر اسلام آباد کے احکامات سے تعینات کیے جاتے ہیں یہ ہیں سال دھوتی پھاڑ کے رومال کا کمال۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرداراخترمینگل کے معاملہ میں ذا تی دلچسپی لیکرمسئلہ حل کریں،نواب رئیسانی

ٹیگز:
نواب رئیسانی
