کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)گرینڈ ہیلتھ الائنس بلوچستان کی مرکزی قیادت کی اپیل پر آج بلوچستان کے تمام اضلاع میں محکمہ صحت کی نجکاری اور کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتیوں کے خلاف احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے کیے گئے۔ ان مظاہروں میں ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف، نرسز اور دیگر ہیلتھ ورکرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جنہوں نے حکومت کی صحت دشمن پالیسیوں کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین گرینڈ ہیلتھ الائنس بلوچستان ڈاکٹر بہار شاہ نے کہا کہ محکمہ صحت کی نجکاری عوام کے حق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے، جس سے غریب عوام صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہوجائیں گے۔ اس پالیسی سے نہ صرف عام لوگوں کو نقصان پہنچے گا بلکہ صحت کے شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کو بھی سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتیوں کو ملازمین کے مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ڈاکٹر بہار شاہ نے حکومت بلوچستان کو دس دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ محکمہ صحت کی نجکاری اور کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتیوں کے فیصلوں کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ بصورت دیگر، احتجاج کا دائرہ وسیع تر اور سخت تر لائحہ عمل کے ساتھ جاری رہے گا۔انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹیوں کے چیئرمین کے طور پر ڈپٹی کمشنرز کی تعیناتی کی مخالفت کی اور مطالبہ کیا کہ اس عہدے پر ڈویژنل ڈائریکٹرز کو مقرر کیا جائے تاکہ محکمہ صحت کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنرز کی نااہلی کی وجہ سے صوبے بھر میں صحت کے ملازمین کو بے شمار مشکلات کا سامنا ہے، اور گرینڈ ہیلتھ الائنس نے ان فیصلوں کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔گرینڈ ہیلتھ الائنس نے وزیراعلی بلوچستان اور کابینہ سے اپیل کی کہ وہ ان جابرانہ فیصلوں پر نظرثانی کریں اور عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو فوری طور پر واپس لیں۔ ڈاکٹر بہار شاہ نے مزید کہا کہ نجکاری اور کنٹریکٹ پالیسیوں کے خلاف جدوجہد میں کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ڈاکٹر بہار شاہ نے حکومت کو یہ پیغام بھی دیا کہ صوبے میں ہزاروں ڈاکٹروں، فارماسسٹس، فزیوتھراپسٹس اور دیگر ہیلتھ ورکرز بیروزگاری کا شکار ہیں۔ مزید یہ کہ صوبے میں پچھلے پانچ سالوں سے پبلک سروس کمیشن کے تحت صحت کے شعبے کی خالی اسامیوں پر کوئی بھرتی نہیں کی گئی۔ پیرامیڈیکل اسٹاف کو کوئی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں اور نرسز کی تنخواہیں دوسرے صوبوں کے مقابلے میں آدھی ہیں۔انہوں نے حکومت بلوچستان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بلوچستان کو تجربہ گاہ بنایا جا رہا ہے، جہاں محکمہ صحت کو نجکاری کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ اس تجربے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔گرینڈ ہیلتھ الائنس بلوچستان کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر بہار شاہ نے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر جو ایک ریٹائرڈ ملازم اور بااثر شخصیت ہے، ان کے حالیہ فیصلے کو آڑے ہاتھوں لیا، این ای او سی کوآرڈینیٹر بلخصوص بلوچستان میں پولیو وائرس کے خلاف مہم کو بہتر انداز میں چلانے میں مکمل ناکامی کا سامنا ہے اور آج اپنی ناکامی چھپانے کیلئے بلوچستان میں پولیو وائرس کے خلاف مہم کو ایک لوکل اینجیو سی ٹی سی جو ایک ریٹائرڈ بااثر شخصیت کی ملکیت ہے اس کے ذریعے چلانے کیلئے سازشیں کررہے ہیں، ان دونوں کی ملی بھگت سے یہ پروگرام ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے لے کر اس اینجیو کے ذریعے پولیو وائرس کے خلاف مہم چلانے کیلئے اقدامات کررہے ہیں، وفاقی دارلحکومت میں بھیٹا یہ نالائق اور کرپٹ شخص اپنی ناکامی چھپانے کیلئے اور اپنی کرپشن کو پروان چلانے کیلئے آب ان ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف کے مستقبل اور روزگار پر ڈاکا ڈالنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں جس کی اجازت کسی صورت نہیں دی جاسکتی، اس نالائق شخص کے اس فیصلے سے صوبے میں پولیو وائرس کیسز کا مزید بڑھنے ا خطرہ بڑھ جائے گا، یہ ہرگز قابل قبول نہیں ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سربراہ سے اپیل کرتے ہیں کہ اس کرپٹ این ای او سی کوآرڈینیٹر کی باتوں میں آئے بغیر بلوچستان کی عوام اور وہاں کے ڈاکٹروں پر رحم کہائے اور اس صوبے میں پولیو وائرس مہم کو مزید بہتر بنانے کیلئے یہ مہم خود چلائے اور یہاں کہ ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کیلئے مزید آسامیوں کی تخلیق کرے،الائنس کی قیادت نے تمام احتجاجی مظاہروں کی کامیابی پر بلوچستان بھر کے تمام کارکنان کو خراج تحسین پیش کیا اور انہیں مزید سخت لائحہ عمل کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی۔ اگر حکومت نے ان مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو گرینڈ ہیلتھ الائنس سخت ترین اقدامات کرنے پر مجبور ہوگی۔
کوئٹہ،گرینڈ ہیلتھ الائنس کا ہسپتالوں کی نجکاری کیخلاف ریلی و احتجاجی مظاہرہ

ٹیگز:
گرینڈ ہیلتھ الائنس
