اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و رکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے والد سردار عطا اللہ مینگل کی تیسری برسی کے موقع پر، میں انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بطور رکن قومی اسمبلی اختر مینگل، رکن قومی اسمبلی، بطور رکن پارلیمنٹ اپنے عہدے سے مستعفی ہوتا ہوں بلوچستان کی موجودہ صورتحال نے مجھے یہ قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہمارا صوبہ مسلسل اس ایوان کی جانب سے نظرانداز ہوتا رہا ہے۔ ہر روز، ہمیں دیوار سے مزید لگایا جاتا ہے، جس سے ہمیں اپنے کردار پر نظرثانی کرنے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچتا۔ اس اسمبلی میں بلوچستان کے عوام کی حقیقی نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے، میری طرح کی آوازیں بھی کوئی معنی خیز تبدیلی نہیں لا سکتیں۔یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ہمارے احتجاج یا اظہار رائے کو ہمیشہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے لوگوں کو یا تو خاموش کر دیا جاتا ہے، غدار قرار دیا جاتا ہے، یا بدتر، قتل کر دیا جاتا ہے۔ ان حالات میں، میں اس صلاحیت میں مزید کام کرنا ناممکن سمجھتا ہوں، کیونکہ یہاں میری موجودگی میرے نمائندہ عوام کے لیے کوئی فائدہ مند نہیں رہی لہذا، میں درخواست کرتا ہوں کہ میرے استعفے کو قبول کیا جائے۔ اللہ تعالی بلوچستان کی حفاظت فرمائے اور اسے خوشحال کرے دوسری جانب سردار اختر مینگل نے محمود خان اچکزئی کے ہمراہ قومی اسمبلی کے سامنے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ ملک میں حکومت نام کی رہ گئی ہے میں ریاست،صدراوروزیراعظم پرعدم اعتماد کرتا ہوں میں نے بلوچستان اعوام کیلئے کچھ نہیں کرسکا میں بلوچستان کے حالات پر دلبرداشتہ ہوکر قومی اسمبلی سے استعفی کا اعلان کرتا ہوں جا کر اپنے علاقے میں کھیتی باڑی کریں گے اگر شہر میں تو پکوڑوں کی دوکان کھول دیں گے اگر ہمیں رہنے دیا یا نواب بگٹی کی طرح آکر ہمیں نہیں بخشا وہ طاقتور اور زوراو ر ہیں مجھے نہ منا ئیں منائے ان کو جن کو ناراض بلوچ کہتے ہوئے بھی ان کو ڈر لگتا ہے پہلے ناراض بلوچ کہتے ہیں ابھی نہیں کہتے نہیں انہوں نے کہا کہ جو میں فیصلہ کرتا ہوں وہ سوچ سمجھ کر کے کرتا ہوں یہ میری بد بختی ہے کہ فیصلے کرکے پھر نہیں سوچھتا ہوں ہم نے غلطیاں کی ہے ہم نے اپنے بڑوں کی نہیں مانی ہے ان کی سزا ہم بھگت رہے ہیں میں پانچ مہینے ملک سے باہر تھا میں نے بلوچستان کے حالات دیکھ کر یہ فیصلہ کرکے آیا تھا یہ نہیں کہ آج کے قومی اسمبلی کے اجلاس میں مجھے بات کرنے نہیں دیا گیا ہے آج واپس جارہا ہوں اگر انہوں نے جانے دیا ہم انسان ہیں لوہے کے بنے ہوئے نہیں ہے ان حالات کو دیکھ کر ہم کیسے دلبرداشتہ نہیں ہوں گے اسمبلیوں میں بیٹھنے کا کیا فائدہ ہے انہوں نے کہا کہ میں استعفی پہلی دفعہ نہیں ہے 2006میں جب نواب اکبر بگٹی کو شہید کیا گیا اس وقت بھی ہم نے نیشنل اسمبلی صوبائی اسمبلی اور سینیٹ سے استعفی دیا تھا وہ پارٹی کا فیصلہ تھا یہ میرا ذاتی فیصلہ ہے یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے ہمیں اللہ کی کتاب پر بھی گرانٹی دی گئی ہے اس سے بھی بڑی کتا ب لائیں میں بیٹھنے کے لیے تیار ہوں میرے استعفے سے 65ہزار ووٹرز ناراض ہوں گے لیکن ان سے معافی مانگتا ہوں۔ پارلیمنٹیرین نے خود کہا کہ بلوچستان ہمارے ہاتھوں سے نکل رہا ہے، میں کہتا ہوں بلوچستان آپ کے ہاتھوں سے نکل نہیں رہا بلکہ نکل چکا ہے۔بلوچستان میں بہت سے لوگوں کا خون بہہ چکا ہے، اس مسئلے پر سب کو اکٹھا ہونا چاہیئے اس مسئلے پر ایک اجلاس بلانا چاہیے تھا جس میں اس مسئلے پر بات ہوتی، جب بھی اس مسئلے پر بات شروع کو تو بلیک آوٹ کر دیا جاتا ہے، میری باتوں پر اگر آپ کو اختلاف ہے تو آپ میری باتیں تحمل سے سنیں، اگر پھر بھی میری باتیں غلط لگیں تو مجھے ہر سزا قبول ہے، مجھے بے شک پارلیمنٹ کے باہر انکانٹر کردیں یا مار دیں لیکن بات تو سنیں ہمارے ساتھ کوئی بھی نہیں ور نہ کوئی بات سنتا ہے اسلام آباد میں لانگ مارچ کر کے آنے والوں پر لاٹھی چارج کیا گیا، واٹر کینن چلائی، بلوچستان کے حالات دیکھ کر فیصلہ کر کے آیا تھا، میں پورے نظام پر عدم اعتماد کر رہا ہوں بلوچستان کے معاملے پر لوگوں کی دلچسپی نہیں، جب بھی اس مسئلے پر بات کرو تو بلیک آٹ کر دیا جاتا ہے، ملک میں صرف نام کی حکومت رہ گئی ہے اڈیالہ جیل بھیج دیں، کوٹ لکھپت بھیج دیں یا مچ بھیج دیں ان کی مرضی ہے، یہ میرے ضمیر کا فیصلہ ہے، واپسی کے راستے انہوں نے سب بند کر دیے ہیں۔میاں نواز شریف ڈھاکا میں معافیاں مانگتے ہیں بڑے میاں معافیاں مانگتے ہیں لیکن چھوٹے میں مجیب کے مجسمے کو گرانے کے لیے شادیانے بجاتے ہیں یہ دونوں بھائی بھی ایک پیج پر نہیں ہے نہ کسی اور کے ساتھ ایک پیج پر ہے بلوچستان میں ایک حولدار ذہنیت کا بندہ اور اس کی باڈی لینگویج دیکھیں آپ کو سیاست دان نہیں آئی ایس آئی کا حولدار بیٹھا ہوا نظر آئے گا اور ایک ایس ایچ او کے ذہنیت کے بندے کو آپ نے وفاقی وزیر داخلہ بنا دیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ سب ایک ایس ایچ او کی مار ہے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وزیر داخلہ بلوچستان وہ تو وڑ گیا ہے کیا پرویز مشرف ایک ایس ایچ او تھا جنہوں نے اپنی بھر پور کوشش کی لیکن ان کو ختم نہیں کرسکا بلکہ اضافہ کیا ہے آپ کے غلط فیصلوں کی وجہ سے بلوچستان میں ایک علاقے میں حالات خراب تھے اب پورے بلوچستان کو آپ نے لپیٹ میں لے لیا ہے وزیر اعلی بلوچستان اور وفاقی وزیر داخلہ کا سیاسی ڈی این اے ٹیسٹ لیا جائے کافی پرانے سیاسی وراثت کی نشانیاں ملے گی مجھے عام انتخابات سے پہلے کہا گیا تھا کہ آپ سے خلائی مخلوق ناراض ہے آپ کو شاید ایک سیٹ ملے اور آج وہی ہو اہے بلوچستان میں فیض آباد کے لو سے الیکشن کے نتائج مرتب ہوگئے تھے۔
پاکستان میں سیاست سے بہتر ہے پکوڑے کی دکان لگا لوں،سردار اختر جان مینگل

ٹیگز:
سردار اختر جان مینگل
