کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) سینیٹر ثمینہ ممتاززہری نے کہاہے کہ گزشتہ سال 9 مئی کے افسوسناک واقعات اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے واضح کر دیا کہ یہ سارا کھیل پاکستان، پاک افواج اور اعلیٰ ملکی اداروں کے خلاف ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت رچایا گیااور ملک کے خلاف ایک بڑی سازش تھی۔ یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے 9 مئی کے افسوسناک واقعات کے ایک سال مکمل ہونے پر اپنے بیان میں کہا کہ اس وقت جیل میں بند عمران خان اور ان کے حواریوں نے اس دن کے لئے بہت پہلے سے منصوبہ بندی شروع کر دی تھی۔ جس دن سے عمران خان اپنی ناقص کارکردگی کی بنیاد پر اقتدار سے الگ ہوئے اس دن سے اس جھوٹے شخص نے اعلیٰ اداروں اور شخصیات پر الزامات کا سلسلہ شروع کر رکھا تھااور اعلیٰ قومی اداروں خاص کر پاک افواج کے خلاف پی ٹی آئی ورکروں کی ذہن سازی کی جارہی تھی جس کا شاخسانہ ہم نے گزشتہ سال 9 مئی کو تشدد اور جلاؤ گھیراؤ اور حساس تنصیبات پر حملوں کی صورت میں دیکھا۔ ایسے واقعات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنی سیاست چمکانے کے لئے پارٹی کارکنوں کو اپنی تقاریر کے ذریعے ورغلایا اور کچے ذہنوں میں اعلیٰ اداروں کے خلاف زہر بھراجو ایک خطرناک عمل ہے۔ یہ منفی ہتھکنڈے کسی بھی طرح سیاست کا حصہ کہلانے کے قابل نہیں۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے مزید کہا کہ عمران خان اور ان کے حواریوں نے نوجوانوں اور محب وطن شہریوں کو ملک میں انتشار اور افراتفری پھیلانے کے لئے استعمال کیا۔ عمران خان کبھی بھی سیاست دان نہیں تھے۔ فتنہ خان نے اپنی سیاست اور کرپشن کو بچانے کے لئے یہ سب ڈرامہ رچایا جس میں ملک کو سنگین نقصان اٹھانا پڑا۔اب بھی یہ شرپسند عناصر پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ میں مصروف ہیں لیکن پاکستان اور پاک فوج کے خلاف کسی بھی قسم کے منفی پروپیگنڈہ پر ذی شعور عوام کان نہیں دھریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ جو شخص مشکل وقت میں ان کا ساتھ چھوڑ جائے، کیا و ہ شخص ان کا لیڈر ہو سکتا ہے ہے!۔ ایسا شخص لیڈر کہلانے کے بالکل قابل نہیں ہو سکتا جو کارکنوں پر مشکل وقت میں اُن سے لاتعلقی ظاہر کر دے۔پاکستانی قوم خاص کر تحریک انصاف کے ورکروں کو بھی اب سمجھ جانا چاہئے کہ اپنی ذاتی تسکین اور دشمنوں کے ایجنڈے کی خاطرجھوٹے اور من گھڑت الزامات کے ذریعے ملک کو داؤ پر لگا دینا کہاں کا انصاف ہے۔۔؟ کہاں کی پاکستانیت ہے؟؟؟۔۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے مزید کہا کہ عمران خان نے پارٹی کا نام تو تحریک انصاف رکھ لیا لیکن انصاف نام کی کوئی چیز ان کی پارٹی میں نظر نہیں آتی۔شاید یہی وجہ ہے کہ ان پرتشدد اور فوج مخالف واقعات کے بعد سمجھدار لوگ عمران خان کے ملک دشمن بیانئے کو سمجھ گئے اور پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور یہ مزید محب وطن شہری جو کہ اب تک پی ٹی آئی کو سپورٹ کر رہے تھے شرمندگی ظاہر کرتے ہوئے پارٹی سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں جو کہ عمران خان کے بیانیے کی نفی ہے۔
9 مئی کے افسوسناک واقعات صرف فوج نہیں بلکہ پاکستان کیخلاف سازش تھی،سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری

ٹیگز:
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری
