کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،غریب عوام کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسلط صوبائی حکومت، محکمہ خوراک اور متعلقہ انتظامیہ عوام کو سستے آٹے کی فراہمی، سرکاری نرخوں پر عملدرآمد میں مکمل طور پر ناکامی جس کے باعث غریب عوام اس وقت نہ صرف غذائی قلت بلکہ شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ100کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 15 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے اور دور دراز علاقوں میں 100کلو کی بوری کی تقریباً 18ہزارمیں فروخت ہورہی ہے۔یہ صورتِ حال عام شہریوں، روزانہ کی بنیاد پر محنت مزدوری کرنے والوے خاندانوں، بیواؤں، یتیموں کے لیے انتہائی تشویش ناک ہے اور اسی طرح تنددووالوں نے بھی روٹی کے گرام میں کمی کردی ہے۔ انتظامیہ فوری طور پرعوام کو سبسڈی دینے، قیمتوں میں کمی، آٹے کی دستیابی اور سرکاری نرخوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں گندم اور آٹے کی کوئی قلت نہیں پھر صوبے میں آٹے کی قلت سوائے کرپشن کے اور کچھ نہیں۔ محکمہ خوراک آٹے کے مہنگائی کی ذمہ دار ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اور سندھ دونوں صوبوں سے گندم کی ترسیل پر پابندیاں عائد ہیں وفاقی اور صوبائی حکومت کے ذریعے صوبے کے لیے گندم منگوائی جائے۔اور ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری اور کسی بھی انتظامی غفلت یا بدعنوانی کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں حکومت کی جانب سے غریب، محنت کش اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے خصوصی ریلیف کے تحت سبسڈی یا پھر یوٹیلیٹی سٹورز پر آٹا فراہم کیا جاتا لیکن مسلط حکومتوں نے یہ سبسڈی اور یوٹیلٹی سٹورز پہلے ہی ختم کرچکی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان غریب عوام کے لیے رعایتی آٹا فراہم کرنے کے لیے حکومت اقدامات کرے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں کمی اور مہنگائی کے مسئلے کے فوری خاتمے لیے کے لیے عملی طور پر کام کرنا ہوگا محض اخباری بیانات، فوٹو سیشن پر مبنی اجلاسوں سے عوام کو ریلیف نہیں مل سکتی۔
محکمہ خوراک آٹے کی مہنگائی کاذمہ دار ہے، پشتونخوامیپ

ٹیگز:
پشتونخوامیپ
