کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) جمعیت علماء اسلام کے سینئر رہنماؤں کا پارٹی وفد کی مسلم لیگ(ن) کے رہنماء اسحاق ڈار سے بلوچستان میں حکومت سازی سے متعلق ملاقات اور خواہش کے اظہار پر حیرت کااظہار۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں اعلیٰ سطح اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ جمعیت علماء اسلام حکومت سازی کے عمل کا حصہ نہیں بنے گی جس کے بعد جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع کی جانب سے میڈیا سے بات کے دوران بیان بھی دیا گیا تھا جس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان میں حکومت سازی نہیں کریگی تاہم بدھ کو جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کی قیادت میں مسلم لیگ(ن) کے رہنماء سینیٹر اسحاق ڈار سے ملاقات کی اور اس دوران بلوچستان میں حکومت سازی سے متعلق خواہش کا اظہار کیا جس پر سینیٹر اسحاق ڈار نے معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ انکا معاہدہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوچکا ہے۔ اس حوالے سے جمعیت علماء اسلام کے سینئر رہنماء حافظ حسین احمد نے جمعیت علماء اسلام کے وفد کی جانب سے مسلم لیگ(ن) کی قیادت سے حکومت سازی سے متعلق خواہش پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جماعت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم حکومت سازی کے عمل کا حصہ نہیں بنیں گے تاہم اس کے باوجود بھی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل مسلم لیگ(ن) کی قیادت سے ملاقات کے لئے گئے اور حکومت سازی پر بات چیت کی گئی۔انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے صیحح کہا کہ ہم کافی دیر سے آئے ہیں حالانکہ جمعیت علماء اسلام کے وفد کو کہنا چاہیے تھا کہ آپ نے ہمیں پہچاننے میں دیر کردی۔انہوں نے کہا کہ عجیب بات ہے کہ اسلام آباد میں مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے مرکز اور بلوچستان میں حکومت سازی سے متعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے معاہدہ اور فیصلہ کیا لیکن جمعیت علماء اسلام کی قیادت اور مولانا فضل الرحمن جو کہ پی ڈی ایم کے سربراہ بھی ہیں کے اسلام آباد میں ہونے کے باوجود بھی ان سے رابطہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم تاحال قائم ہے اور اسے تحلیل نہیں کیا گیا قومی اور صوبائی سطح کے فیصلوں کے دوران جمعیت علماء اسلام کی قیادت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
قومی اور صوبائی سطح کے فیصلوں کے دوران جمعیت علماء اسلام کی قیادت کو نظر انداز کیا گیا، حافظ حسین احمد

ٹیگز:
حافظ حسین احمد
