کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان گرینڈ الائنس کے سربراہ و کوئٹہ کے حلقہ این ائے 263 سے نامزد امیدوار نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر میں آباد تمام اقوام اور برادریوں کو یکساں مسائل کا سامنا ہے جس کے حل کیلئے ہمیں ہر قسم کے تصبات سے بالاتر ہوکر اپنے بقاء کی جنگ لڑنی ہے اور ہم ملکر ہی یہ جنگ جیت سکتے ہیں، ووٹ کاغذ کی پرچی نہیں بلکہ رائے کا اظہار ہے، ملک اور صوبے کو مختلف بحرانوں اور چیلنجز کا سامنا ہے جن کو نالیاں بنانے والے حل نہیں کرسکتے نہ پی ایس ڈی پی اجتماعی قومی معاملات کا حل ہے، اس کیلئے ہمیں اپنے ووٹ کا احترام کرنا ہوگا۔یہ بات انہوں نے پیر کو علمدار روڈ پر انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اجتماع سے اطہر خان ہزارہ سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا، اس موقع پر الائنس کے رہنما و قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 264 سریاب سے نامزد امیدوار میر ہمایوں عزیز کرد، پی بی 42 سے نامزد امیدوار رضاالرحمن سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ اسلام آباد پریس کلب کے سامنے خواتین و بچے دھرنے پر بیٹھے ہیں مگر کوئی ایسا شخص نہیں جوان سے مذاکرات کرے، کیوں کہ ان کا عوامی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ فروری کو ووٹرز کو ایک لکھیر کھیچنی ہوگی کہ ہم کوئٹہ شہر اور صوبے میں ایک سیاسی عمل کو آگئے لیکر بڑھیں گے، انہوں نے کہا کہ ہم انتہائی سنجیدہ دور سے گزررہے ہیں، ملک کے سیاسی عمل میں اگر ہم اپنا کردار ادا نہیں کریں گے تو بحرانوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ آٹھ فروری تک کوئٹہ شہر اور بلوچستان کے لوگ ایک سنجیدہ فیصلہ کریں گے کہ ووٹ کس کو دینا ہے اور آج اگر ہم نے ایک سنجیدہ فیصلہ کیا تو آئندہ نسل ہم کو ایک اچھے نام سے یاد کریں گی کوئٹہ شہر کے پرامن ماحول، روایتی خوبصورتی، محبت اور بھائی چارے کو بحال اور مذہبی منافرت کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہاکہ2018ء سے 2023ء تک پی ایس ڈی پی کے نام پر بلوچستان کے پانچ سو ارب روپے ہڑپ کرلئے گئے ہیں ان کا راستہ روکنا کوئٹہ شہر اور صوبے کے لوگوں کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہاکہ عوام 8 فروری کو اپنی قسمت کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لیں اورجب بھی قوموں کی قسمت کے فیصلے عوام نے اپنے ووٹ سے کیا تب اپنی قسمت تبدیل کردی، سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگاکر الیکشن جیتنے کی کوشش کررہی ہیں، ان میں سے کسی ایک نے اپنا منشور تک پیش نہیں کیا، پارلیمنٹ میں سیاسی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے اور ڈائیلاگ کے ذریعے ہی صوبے کے مسائل حل، وفاق اور صوبے کے سیاسی عمل میں دوری کو پرامن سیاسی ڈائیلاگ کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے اس کے لئے عوام ووٹ دیں تاکہ بلوچستان اور وفاق کے درمیان ایک ڈائیلاگ کا آغاز کرکے بلوچستان کے اجتماعی مسائل پر ایک سنجیدہ پالیسی بنے
اسلام آباد پریس کلب کے سامنے خواتین و بچے دھرنے پر بیٹھے ہیں مگر کوئی ایسا شخص نہیں جوان سے مذاکرات کرے، نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی

ٹیگز:
حاجی لشکری رئیسانی
