کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان کی قدیم دینی درسگاہ جامعہ مطلع العلوم بروری روڈ کی سالانہ دستار فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی رہنماء سابق سینیٹر حافظ حسین احمد، مفتی کفایت اللہ، مولانا قاری انوار الحق حقانی، مولانا عبد المتکبر اخوندزادہ اور دیگر نے کہا کہ مدارس امن کے گہوارے ہیں، ملک میں پگڑی داڑھی والوں کیلئے دوسرا معیار ہے۔ اس موقع پر جے یوآئی ضلع کوئٹہ کے ترجمان مرکزی میڈیا سیل کے چیئرمین حافظ عبد الغنی شہزاد،مولانا عبد الخالق، احمد شاہ صدیقی اور دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اخروی زندگی کی کامیابی کے چشمے ان مدارس سے پھوٹتے ہیں انہیں کی کاوشوں کی بدولت آج وطن عزیز میں شرافت اور تہذیب کا دور دورہ ہے ان کی قدر دانی ہر ایک پر لازم ہے یہ دینی مدارس و قرآنی مکاتب جو ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے یا کسی بھی خطہ زمین میں آباد اپنی بے سرو سامانی کے باوجود دینی خدمات انجام دے رہے ہیں یہ انتہائی قابل ستائش اور بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں جو روز و شب دینی تقاضوں کو پورا کرنے اور دینی ضرورتوں کی انجام دہی میں سر گرم عمل ہیں یہ مدارس اس پہلی وحی کے پیغام کو عام کرنے والے ہیں جو فرشتوں کے سردار حضرت جبریل علیہ السلام حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے جس کا پہلا لفظ أقرأ سے شروع ہوتا ہے اقرأ کا مطلب ہے پڑھو کاعلم سے روشناس کرانے والے ہیں یہ مدارس پچھلی چودہ صدیوں سے انہیں قرآن و حدیث کے علوم کی اشاعت میں مصروف عمل ہیں جن کا آغاز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام اور اصحاب صفہ سے فرمایا پھر صحابہ سے تابعین کو اور ان سے تبع تابعین کو اور ان سے آگے آنے والوں کو منتقل ہوتے ہوئے ہم تک پہنچا انہوں نے کہا کہ ان درسگاہوں میں ان ہی علوم قرآنیہ و نبویہ کا تکرار و مذاکرہ ہوتا ہے اور انہیں کا درس و سبق دیا جاتا ہے قرآن کی تلاوت سکھائی جاتی ہے قرآن کو اپنے سینوں مین محفوظ کرنے کی سعادت سے بہرہ ور ہونے کا موقع ملتا ہے یہاں دین کے مطابق زندگی گزارنے کا سبق سمجھایا جاتا ہے اطاعت الہی اور اطاعت رسول کا درس دیا جاتا ہے یہ مدارس منارہ نور ہیں جو ہر طرف قرآن و سنت کی روشنی بکھیرتے ہیں اور جہل کی تاریکی کو دور کرتے ہیں۔ہماری زندگی کے سوتے اور کامیابی کے چشمے ان سے پھوٹتے ہیں اصل کامیابی اور اصل منزل کا پتہ ان مدارس سے ملتا ہیملت کی نوجوان نسل کو یہ مدارس دین و اسلام سے وابستہ رکھتے ہیں یہ مدارس باقی ہیں تو دین و ایمان کو بقا اور تحفظ حاصل ہے اسلامی اقدار و روایات کی پاس و حرمت سلامت ہے مسلمانوں کی اپنی شریعت کے ساتھ سچی وابستگی و عقیدت اور پورے معاشرے و سماج کی اصلاح و درستگی باقی و حاصل ہے امت کی اصلاح اور بھلائی کے سارے کاز یہ مدارس اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں اور بحسن و خوبی انجام دہی میں مصروف ہیں ہمیں ان مدارس سے دین کا بقا و تحفظ ملا مدرسین و اساتذہ ملے ائمہ و خطبا ملے محدثین و مفسرین ملے سینوں میں قرآن پاک محفوظ کرنے والے حفاظ کرام اور بہترین آواز و خوش ادائیگی کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے قراء عظام ملے حق کے ترجمان و باطل کا مقابلہ کرنے والے مردان حق ملے۔ علمائے کرام و مفتیان عظام ملے۔ مصنفین و مولفین ملے مبلغین و دین کی دعوت کا کام انجام دینے والے ملے۔ خانقاہی نظام کے ذریعہ انقلاب لانے والے و اصلاح احوال کرنے والے مصلحین و مشائخ عظام ملے ملک وملت کے لئے سنہرے حروف میں لکھے جانے کام اور خدمات انجام دینے والے ادارے،تحریکیں اور تنظیمیں خصوصاً ملک کی قیادت و سیادت کرنے والی جماعت جمعیت علماء اسلام پاکستان انہیں مدارس کی مرہون منت ہے۔
مدارس امن کے گہوارے ہیں، ملک میں پگڑی داڑھی والوں کیلئے دوسرا معیار ہے، حافظ حسین احمد

ٹیگز:
حافظ حسین احمد
