کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)عدالت عالیہ بلوچستان کے ججز جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس شوکت علی رخشانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سیشن 2023 کے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کورسز کے لیے میڈیکل یونیورسٹی اور کالجوں میں داخلے کے خواہشمند امیدواروں کی 10 ستمبر کو ہونے والے ‘میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج داخلہ ٹیسٹ’ (MDCAT) کے حوالے سے دائر آئینی درخواست خارج کردی۔ آئینی درخواست پلوشہ شیرانی اور دیگر نے دائر کررکھی تھی۔درخواست گزاروں کے جانب سے محمد اسحاق ناصر ایڈووکیٹ جبکہ حکومت کی جانب سے طاہر علی بلوچ ایڈووکیٹ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شئے حق بلوچ اور سلطان خالد ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ ٹیسٹ پی ایم ڈی سی کی طرف سے تجویز کردہ رہنما اصولوں کے مطابق نہیں تھیاور ٹیسٹ متعلقہ صوبے بلوچستان کے ذریعے کرایا جانا تھا لیکن پی ایم ڈی سی کے قواعد و ضوابط اور اس کے تحت وضع کردہ رہنما اصولوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔ اصولوں کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹیسٹ کا انعقاد کیا گیا۔ ٹیسٹ ایک غیر مجاز ادارہ یعنی NUST کے ذریعے کیا گیا۔ انہوں دلائل دیے کہ مذکورہ ٹیسٹ میں جدید الیکٹرانک ڈیوائسز کے ذریعے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کا بھی انکشاف ہوا ہے جس نے پورے طریقہ کار پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ انتظامیہ کی غلطیوں کی وجہ سے مستحق امیدواروں کو ان کے قانونی بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ استدعا کی گئی کہ ٹیسٹ کو کالعدم قرار دیا جائے۔درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ ٹیسٹ کے دوران جواب دہندگان کی طرف سے زبردست غیر قانونی اور بے قاعدگیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے جبکہ کسی امیدوار کی طرف سے کسی بھی جدید ڈیوائس کے استعمال سے بچنے، دھوکہ دہی، پیپر لیک کرنے اور اس کے استعمال سے بچنے کے لیے کوئی احتیاطی تدابیر نہیں کی گئیں پرچہ ٹیسٹ/امتحان شروع ہونے کے پندرہ منٹ کے اندر جدید ڈیوائس کے ذریعے لیک کر دیا گیا تھا۔جس نے اس عمل کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔ پیپرز یا تو PMDC? کی طرف سے تیار نہیں کیے گئے تھے یا PMDC کی طرف سے وضع کردہ پالیسی میں بتائی گئی گائیڈ لائن کے مطابق نہیں تھے کیوں کہ سوالات کی نوعیت مشکل تھی اور یقیناً مطالعہ کے ماڈیولز اور امیدواروں کے علم سے بالاتر تھے اور متعدد شکایات کے باوجود جواب دہندگان ٹیسٹ کے عمل کو دوبارہ کرانا چاہتے ہیں۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے استدعا کی کہ درخواستوں کو اس میں مانگی گئی ریلیف کے لحاظ سے منظور کیا جائے۔جبکہ بلوچستان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز، کوئٹہ (بی یو ایم ایچ ایس) کے وکیل نے کہا کہ پٹیشن میں لگائے گئے الزامات کسی ثبوت سے ثابت نہیں ہیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے اس گھپلے کی بنیاد پر ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں صرف نو (9) طلبہ شریک ہوئے لیکن کسی نے بھی معیار، سوالیہ پرچوں اور امتحان کے طریقہ کار پر اعتراض نہیں کیا، تاہم اس دوران یہ بات سامنے آئی کہ مبینہ طور پر 15 سے 20 سوالات پر مشتمل سبز کتاب کو لیک کیا گیا تھا جو صرف تین صفحات پر مشتمل تھا اور مبینہ طور پر ملوث طالب علم کے خلاف کارروائی عمل لائی جاچکی ہے جبکہ اعتراض کرنے والوں میں سے کسی نے بھی اس عدالت سے رجوع نہیں کیا اور اسی طرح درخواست گزار کبھی بھی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ ٹیسٹ میں کل 9,240 امیدواروں نے شرکت کی جن میں سے تقریباً 1800 طلباء نے اپنا ٹیسٹ پاس کیا اور غیر ثابت شدہ الزامات کی بنیاد پر پاس ہونے والے امیدواروں کو ان کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ فضول قانونی چارہ جوئی کی وجہ سے داخلہ کا عمل داؤ پر لگایا ہوا ہے اور اسی طرح آئندہ تعلیمی سیشن میں تاخیر ہو جائے گی۔ جس سے طلباء اور BUMHS دونوں کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار امتحان دینے کا ایک اور موقع چاہتے ہیں تاکہ ان کے نتائج کو بہتر بنایا جا سکے۔ ایم ڈی سی اے ٹی امتحان میں فیل ہونے والے درخواست گزاروں کی شکایات درست نہیں ہیں۔ کیونکہ ہزاروں طلباء نے ایم ڈی سی اے ٹی کا امتحان پاس کیا ہے۔کسی بھی طالب علم کو اپنے امتحان میں سوالات کے حوالے سے شکایت ہو تو وہ اس سے پہلے درخواست/شکایت درج کر سکتا تھا۔?PMDC کے وکیل نے BUMHS کے وکیل کے دلائل کی توثیق کرتے ہوئے درخواستوں کو خارج کرنے کی درخواست کی۔معزز بینچ نے دونوں فریقین کے وکلاء کے دلائل سنے اور ان کی مدد سے ریکارڈ اور راہنماء اصولوں اور قوانین کا بغور جائزہ لیا۔ معزز بینچ نے واضح کیا کہ ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے لیے منعقدہ امتحان جس میں 9420 خواہشمند امیدواروں نے حصہ لیا اور اس میں 1800 کامیاب قرار پائے۔ ناکام امیدواروں میں سے صرف نو امیدواروں نے مذکورہ امتحان کو پی ایم ڈی سی کے قوانین، ہدایات اور رہنما اصولوں کے خلاف قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ معزز جج صاحبان نے کہا کہ صرف کچھ امیدواروں کی آرزو و خواہشات کے کہنے پر کامیاب امیدواروں کو وہ سزا نہیں دی جا سکتی جو انہوں نے کی ہی نہیں اور ناکام امیدواروں کی جانب سے لگائے گئے الزامات کمیٹی کے روبرو ثابت بھی نہیں ہوئے لہذا یہ عدالت کامیاب امیدواروں کی بنیادی حقوق کی پامالی اور اس مسئلے کو لا محدود مدد تک طول دینے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ معزز بینچ نے حکم دیا کہ خالی نشستیں اگر کسی بھی وجہ سے خالی رہ جاتی ہیں تو وہ اوپن میرٹ کوٹہ پر منتقل کی جاتی ہیں۔ جبکہ پی ایم ڈی سی کی طرف سے وضع کردہ ضابطہ 2023 میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خالی نشست غیر ملکی شہریوں کے لیے مخصوص ہوتی ہیں اور اگر پر نہ کیے گیے تو اوپن میرٹ پر منتقل کر دیے جاتے ہیں۔ اس لیے ایک بار پھر ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ تمام نشستیں جو کسی بھی وجہ سے پُر نہیں کیے جاسکے صوبے کے اوپن میرٹ کوٹہ پر منتقل کیے جائیں۔ اور اسے کسی بھی صورت میں اگلے سال تک نہیں لے جایا جائے۔ اور پورے صوبے کی سیٹیں میرٹ کی بنیاد پر پُر کیے جائیں۔
عدالت عالیہ بلوچستان نے سیشن 2023 کے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کورسز کے لیے(MDCAT) کے حوالے سے دائر آئینی درخواست خارج کردی

ٹیگز:
عدالت عالیہ
