کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان پروفیسر عین الدین کبزئی ودیگر پروگریسیو ارا(بی پی ایل اے)نے مطالبہ کیا ہے کہ نگران وزیر اعلی بلوچستان اور نگران وزیر تعلیم چیئرمین بورڈ اعجاز بلوچ کو معطل کیا جائے اور ان کی سربراہی میں دیگر افراد جنہوں نے پرفیسر آغاز زاہد پر قاتلانہ حملہ کیا ہے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے چیئرمین بورڈ کے خلاف ان کی بد عنوانیوں بد انتظامی پر فوری تحقیقات شروع کی جائے ورنہ ہم پورے بلوچستان کے پروفیسرز اور لیکچررز کے ساتھ مل کر آئندہ کا لائے عمل طے کریں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا پروفیسر عین الدین کبزئی نے مزید کہا کہ بلوچستان بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں گزشتہ کچھ عرصے سے بدانتظامی اور بدعنوانی کا سلسلہ عروج پر ہے انٹر میڈیٹ کے حالیہ ضمنی امتحان میں جب بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے پروگریسیو پینل کے ساتھیوں کو اس بات کا پتہ چلا کہ امتحانی ڈیوٹیوں اور امتحانی مراکز کے حوالے سے چیئر مین بورڈ سنگین غلطیوں کا ارتکاب کررہے ہیں تو ہم نے ان سے ملاقات کرکے انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔ سلسلہ نہیں رکا تو ہم نے اخباری بیانات اور سوشل میڈیا کے توسط سے نگران وزیراور دیگر حکام کی توجہ اس جانب مبذول کرائی۔آج صبح جب بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچرر ز ایسوسی ایشن کے سابق صدر پروفیسر آغا زاہد کلاس لینے کے لئے گھر سے کالج کی طرف جارہے تھے تو ڈگری کالج کے قریب چیئر مین بورڈ اعجاز بلوچ اور ان کے ساتھ ہمراہ پانچ نامعلوم افراد جو ڈنڈوں اور آہنی راڈ ز سے لیس تھے نے پروفیسر آغازاہد کو روکا۔ اعجاز بلوچ نے پروفیسر آغا زاہد کو کہا کہ آپ نے میرے خلاف سوشل میڈیا پر مہم شروع کی ہے۔ پروفیسر آغا زاہد نے کہا کہ تعلیمی شعبے کی بہتری کے لئے میں ہر فورم پر جمہوری اور علمی انداز میں اپنی آواز اٹھاوں گے جس پر اعجاز بلوچ نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ اس کو آواز اٹھانے کا مزہ چکھادو۔اس کے بعد دیگر پانچوں افراد نے پروفیسر آغازاہد پر لاٹھیوں سے حملہ کردیا۔ اور خود اعجاز بلوچ چیئر مین بلوچستان بورڈ جو ان افراد کی قیادت کررہے تھے انہوں نے آہنی پنچے(کلپ)سے پروفیسر آغاز اہد کے سرپر وار کیا۔ اور جان لیوا حملے کے بعد اعجاز بلوچ اور ان کے ہمراہ تمام افراد بہ آسانی فرار ہوگئے۔ پروفیسر آغا زاہد کے مطلع کرنے پر ہمارے دو دیگر ساتھی پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ اور پروفیسر مان منصور نے آغازاہد کو پہلے ڈگری کالج کے سٹاف روم منتقل کیا اور وہاں سے پولیس کو اطلاع کردی۔جس کے بعد پولیس عملہ آیا اور ہم نے پروفیسر آغا زاہد کو شدید زخمی حالت میں سول ہسپتال ٹراما سینٹر منتقل کردیا۔ پروفیسر آغا زاہد کا دایاں ہاتھ فریکچر ہوگیا ہے اور ان کے سر پر بھی اعجاز بلوچ کے مارے گئے آہنی پنجے (کلپ)کی وجہ سے شدید چوٹیں آئی ہیں۔ پروفیسر آغا زاہد کا علاج ابھی جاری ہے۔ہم آج کی اس ہنگامی پریس کانفرنس کے توسط سے نگران وزیراعلی میر علی مردان خان ڈومکی، نگران وزیر تعلیم، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری تعلیم سے مطالبہ کرتے ہیں کہچیئر مین بورڈ اعجاز بلوچ کو معطل کرکے فوری طور پر گرفتار کیا جائے اوران کی سربراہی میں دیگر افراد جنہوں نے پروفیسر آغازہد پر قاتلانہ حملہ کیا انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔چیئر مین بورڈ کے خلاف ان کی بدعنوانیوں، بدانتظامی پر فوری تحقیقات شروع کی جائی۔ انکوائری کرائی جائے اور طلبہ کی اہلیت کا پیمانہ ماپنے والے اہم ترین ادارے اور صوبے کے واحد تعلیمی بورڈ کو اس مافیا سے چھٹکارا دلایا جائے۔اگر ہمارے مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوا تو ہم مجبورا بلوچستان بھر کے پروفیسرز اور لیکچررز کے ساتھ مل کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے پر مجبور ہوں گے۔
پرفیسرآغا زاہد پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کوقانون کے کٹہرے میں لایا جائے،بی پی ایل اے

ٹیگز:
پرفیسرآغا زاہد
