کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پیٹرولیم و رسورسز اور سیاسی و اقتصادی امور کے ماہر سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پولیو وائرس کی پاکستان میں موجودگی انتہائی تشویشناک ہے مزید 6 اضلاع میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے کراچی سے 4،چمن سے 2، کوہاٹ اور نوشہرہ سے ایک ایک کیس سامنے آیا ہے پاکستان نائجیریا کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جہاں پولیو وائرس مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ محکمہ صحت کو پولیو ویکسین مہم موثر بنانے کی ضرورت ہے پورے ملک میں آگاہی مہم کا آغاز جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کیا جانا چاہئے سوشل میڈیا پر مہم چلانے کی ضرورت ہے بیماریوں سے بچاؤ کے لئے حفاظتی اقدامات شروع کردیئے جانے چاہئیں عوام میں شعور اجاگر کرنے میں دلچسپی ظاہر کی جائے حکومت جب تک انتہائی سنجیدگی سے اس بیماری سے بچاؤ کیلئے تدابیر اختیار نہیں کرتی اس مرض کے پھیلاؤ کو روکنے میں سو فیصد کامیابی مشکل ہوگی۔انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں پایا جانے والا پولیو وائرس افغانستان میں وائی بی 2 اے وائرس کلسٹر سے تعلق رکھتا ہے پولیو وائرس کی موجودگی سے ہر بچے کو خطرہ لاحق ہے 5 سال سے کم عمر کے بچوں کو یہ وائرس عمر بھر کے لئے معذور بنا سکتا ہے پولیو کا کوئی علاج نہیں صرف ویکسین ہی بچوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے بچوں کے والدین سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ گھر آنے والے پولیو ورکرز کا خیر مقدم کریں۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو زندگی بھر کی معذوری سے بچانے کیلئے پولیو کے قطرے ضرور پلائیں محکمہ صحت بچوں میں پولیو کے خاتمے کے لئے ملکی سطح پر دائرہ کار وسیع کرے تاکہ پولیو کے قطرے ہر بچے کو پلائے جا سکیں پولیو وائرس کے خاتمے کیلئے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سو فیصد کامیابی حاصل کر چکے ہیں پاکستان ایک گنجان آباد ملک ہے یہاں کروڑوں لوگ خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں حفظان صحت کا معیار انتہائی پست ہے اس لئے بھی پولیو وائرس سے بچاؤ میں مشکلات کا سامنا ہے۔
والدین اپنے بچوں کو زندگی بھر کی معذوری سے بچانے کیلئے پولیو کے قطرے ضرور پلائیں، سینیٹر محمد عبدالقادر

ٹیگز:
سینیٹر محمد عبدالقادر
