کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پیٹرولیم و رسورسز اور سیاسی و اقتصادی امور کے ماہر سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ جائزہ مشن ملک کی مالیاتی صورتحال کا جائزہ لے گا رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے وفاقی حکومت کی آمدنی استعمال ہو چکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب آئی ایم ایف کا آئندہ جائزہ مشن ملک کی بگڑی ہوئی مالی صورتحال کا جائزہ لے گا ممکن ہے کہ آئی ایم ایف سخت اقدامات کا سلسلہ برقرار رکھنے کا فیصلہ کرے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف اس وقت سخت اقدامات برقرار رکھے گا جب حکومت نے مختص کردہ 950 ارب روپے کی بجائے ترقیاتی بجٹ کیلئے صرف 40 ارب روپے جاری کئے ہیں اور بجٹ میں 1002 ارب روپے کی سبسڈی مختص کرنے کے باوجود صرف 2.5 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے تاہم وزارت خزانہ کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ پالیسی ریٹ میں نظر ثانی کے بعد ان پر گراوٹ کی توقع کر رہے ہیں اس وقت سب سے بڑے سوالات یہ ہیں کہ سبسڈی کی ادائیگی کب تک بلاک رہے گی اور کب تک ترقیاتی بجٹ کم کیا جاتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ جب تک ملک کی آمدنی اور اخراجات میں توازن پیدا نہیں کیا جاتا جب تک درآمد اور برآمد میں توازن پیدا نہیں کیا جاتا جب تک خود انحصاری کی روش اختیار نہیں کی جاتی اور جب تک کفایت شعاری کو قومی شعار نہیں بنایا جاتا ملک کو مالیاتی خساروں کا سامنا رہے گا اور اسے مالیاتی اداروں کی گرفت سے آزاد کروانا ایک خواب رہے گا ملک اگر مسلسل معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے تو اسے صحت مند معاشی ترقی سے ہمکنار کرنے کے لئے اسکے اصل مالیاتی امراض سے چھٹکارزا دلانا ہی واحد حل ہو گا۔چیئرمین قائمہ کمیٹی عبدالقادرنے کہا کہ پاکستان کی مسلسل بگڑتی ہوئی مالیاتی صورتحال کی وجہ سے ہمیں بار بار مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کے پاس مالی سہارے کے لئے جانا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ملک بے توقیر ہو کر رہ گیا ہے ایسے میں دنیا ہماری استعداد پر شدید تنقید کرتی ہے ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنا ایف بی آر کی اداراجاتی ذمہ دار ہے ٹیکس نیٹ بڑھانے کا فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ٹیکس وصولی کا رخ پسے ہوئے طبقے سے مراعات یافتہ طبقے کی جانب موڑنا انتہائی ضروری ہے
مالیاتی صورتحال کی وجہ سے ہمیں بار بار مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کے پاس مالی سہارے کے لئے جانا پڑتا ہے، محمد عبدالقادر

ٹیگز:
محمد عبدالقادر
