کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان تندور ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد نعیم خلجی ودیگر نے کہا ہے کہ بلوچستان تندور ایسوی ایشن گزشتہ کئی ماہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی، آنے پر ٹیلٹی بلوں کی قیمتوں میں اضافے اور لیبر کی تنخواہوں میں اضافے کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ سے روٹی کی قیمت بڑھانے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن قیمت میں اضافہ کرنے کی بجائے گزشتہ دنوں پرائس کنٹرول کمیٹی کے ذریعے قیمت میں کمی کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہیں اور اگر انتظامیہ کی جانب سے ہمار ے خلاف کارروائی معطل نہیں کی گئی تو30اکتوبر کو تندور بند کرکے چابیاں انتظامیہ کے حوالے کریں گے،یہ بات انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہاکہ کوئٹہ کے طول و ارض میں ہمارے لوگ دن رات عوام کی خدمت کر رہے ہیں لیکن پولیس اور انتظامیہ آئے روز تندوروں پر چھاپے مار کر 3 ہزار سے 50 ہزار روپے جرمانہ کر رہے ہیں اور دوسری جانب رات کی تاریکی میں دکانوں پر چھاپے مار کر لوگوں کو گرفتار کیا جارہا ہے جو درست عمل نہیں حکومت اور انتظامیہ ہمیں پر امن طریقے سے کاروبار کرنے کی اجازت دیتے ہوئے تندور پر کام کرنے والوں کو کارڈ جاری کرے تاکہ ہمارے لوگ اپنے کاروبار کو جاری رکھ سکیں اگر حکومت اور انتظامیہ نے ہمارے ساتھ ہونے والے تاروا اقدامات اور سلوک کا نوٹس نہ لیا اور مستقل حل نکال کر روٹی کی قیمت میں اضافہ نہ کیا تو ہم مجبور ہو کر اپنی دکانوں کو 30 اکتوبر سے نہ کردیں گے جس سے حالات کی تمام ترکوئی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی انہوں نے کہاکہ ہمیں عوام کی مشکلات اور تکالیف کا بخوبی اندازہ ہے ہم نہیں چاہے کہ ہم اپنے مسائل کے حل کے لئے لوگوں کے لئے تکلیف کا امت ین اور کوئی ایسا اقدام کریں جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے اس لئے ہم احتجاج کے لئے بھی کوئی سخت فیصلہ نہیں کرنا چاہتے نہیں ہم بھی موجودہ حالات اور صورتحال میں مجبور ہیں اس لئے ہماری مجبوری کو سمجھا جائے اور مسئلے کو مستقل طور پر حل کیا جائے انہوں نے کہاکہ روٹی کی قیمت میں اضافے کے لئے تجربیاتی کمیٹی تحلیل دیگر تجربہ کر کے بڑھتی ہوئی مہنگائی آنے کی قیمت میں اضافے دکان کا کرایہ تیس بھلی ایل پی جی گیس اور لکڑی کی قیمت میں اضافے سمیت لیبر کی مزدوری کو محوظ خاطر رکھ کر روٹی کی قیمت مقرر کی جائے یا پھر حکومت میں سمیڈائزڈ ریٹ پر آنا اور جن میں فراہم کرے تدور والے پولیس اور انکا میر کے چھانہوں اور جرمانوں سے بیزار آچکے ہیں اس لئے ہم اپنے مسول۔ جس کے لے 30 اکتوبر سے تندور بند کرنے پر مجبور ہونگے لہذا نگران حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ ہیں کہ وہ فوری طور پر موجود و مہنگائی اور میں بجلی کی قیمتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے روٹی کے ریٹ میں مناسب اضافہ تاکہ تندور والے اپنا کاروبار جاری رکھے۔
ہمارے خلاف کارروائی بند نہ کی گئی تو30 اکتوبر سے تندوربند کرنے پر مجبور ہونگے،بلوچستان تندور ایسوسی ایشن

ٹیگز:
تندور
