کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا ہے کہ پولیو جیسے موذی مرض سے مستقبل کے معماروں کو بچانے کیلئے والدین سمیت معاشرے کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کو کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ 5 سال کی عمر تک کے بچوں کو پولیو کے دو قطرے پلا کر انہیں عمر بھر کی معذوری سے بچایا جا سکتا ہے، اس سلسلے میں پو لیو ورکرز، سیکیورٹی فورسز کی خدما ت قابل تحسین ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز (بیوٹمز) میں پولیو کے عالمی دن اور پولیو مہم کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پولیو ورکرز میں تعریفی اسناد اور شیلڈز تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آ ج ہم ان ورکرز کی دلجوئی کیلئے یہاں موجود ہیں جنہوں نے اس مرض کے خاتمے کیلئے تمام تر مشکلات اور چیلنجز کے باوجود مثالی کام کیا ہے۔ اس وقت دنیا میں دو ملکوں (پاکستان اور افغانستان) میں یہ وائرس پایا جاتا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب پولیو کا پاکستان اور صوبہ بلوچستان سے مکمل خاتمہ ہوگا اور صوبے میں تقریباً ڈھائی سال سے کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ورکرز، پولیس، لیویز اور ایف سی کو چھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس عظیم مقصد کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ تقریب سے سیکرٹری صحت اسفندیار کاکڑ، ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان کے کو آرڈینیٹر ذاہد شاہ، مذہبی رہنما مولانا انوارالحق حقانی نے بھی خطاب کیا۔ تقریب سے خطا ب کر تے ہو ئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ کسی چیلنج سے کم نہیں لیکن جس انداز سے پولیو ورکرز مہمات کو علماء کرام، اساتذہ کرام، قبائلی و سیاسی معززین اور معاشرے کے تمام شعبوں سے وابستہ افراد کے ساتھ مل کر کامیاب بنارہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب پا کستان اور بلوچستان سے اس موذی مرض کا مکمل خاتمہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ خطرہ بدستور موجود ہے۔ چیف سیکرٹری نے مہم کے دوران بہترین خدمات انجام دینے والے ورکرز میں تعریفی اسناد اور شیلڈز اور شہید ہونے والے اہلکاروں کے ورثاء کو چیک تقسیم کئے۔
پولیو جیسے موذی مرض سے مستقبل کے معماروں کو بچانے کیلئے والدین کو کردار ادا کرنا ہوگا، شکیل قادر خان

ٹیگز:
شکیل قادر خان
