کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) کسان اتحادپاکستان کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نے کہا ہے کہ ہمسایہ ممالک سے پیاز،ٹماٹر اورسیب کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے تاکہ بلوچستان کے کسانوں کو انکی تیار فصلوں کااچھا ریٹ مل سکے،نگران صوبائی حکومت نے کسانوں کو بجلی کے ماہانہ بل کو 6سے بڑھاکر12ہزار کردیا ہے جبکہ بجلی 6سے 8گھنٹے کی کرنے کی بجائے 3گھنٹے کردی گئی ہے،23اکتوبر کو کوئٹہ میں کسان کنونشن منعقد ہوگا جسمیں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ یہ بات انہوں نے منگل کو سیکرٹری جنرل میر عطاء اللہ لانگو ایڈووکیٹ، ملک عصمت اللہ دمڑ، میرقاسم سرپرہ اوردیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں فیکٹریاں نہ ہونے کے باعث عوام کے روزگار کا دارومدار زراعت پرہے اور صوبے میں 85فیصد زمینداری بجلی کے ذڑیعے چلنے والے ٹیوب ویلوں سی ہوتی ہے کیسکو،ایگری کلچر،ایری گیشن جن کاتعلق براہ راست کسانوں کے ساتھ ہے اپنی ہٹ دھرمی پرقائم رہتے ہوئے کسانوں پر روز بروز ظلم کے پہاڑ ڈھارہے ہیں گزشتہ روز نگران صوبائی حکومت اورانکے حکومتی نمائندوں نے ٹوپی ڈرامہ کرکے بجلی کے بلوں کو ماہانہ 6سے بڑھاکر8ہزار روپے کردیا اور بجلی کی 6سے آٹھ گھنٹے کرنے کی بجائے 3گھنٹے کردی گئی کم وولٹیج کی وجہ سے مشینوں کو نقصان بھی کسانوں کو اٹھاناپڑ رہا ہے موجودہ بجلی کریک ڈاون کی وجہ سے کسان مزید کرب و تکلیف میں مبتلاہوگئے ہیں جن علاقوں میں غیرقانونی کنکشن ہیں انکے ماہانہ فکس بل بھی کسان ادا کررہے ہیں لیکن وہ بل بجائے حکومتی خزان میں جمع ہونے کے واپڈا اہلکاروں کے ذاتی خزانے میں جمع ہورہے ہیں جس سے حکومت کو بہت نقصان ہورہا ہے ہم کسان کنکشن کو لیگل کرنے کی استدعاکرتے ہیں کہ کنکشن کو لیگل کیا جائے تاکہ حکومت کواسکا فائدہ ہو اورکرپشن کو کنٹرول کیا جاسکے اور جن علاقوں میں سیلاب کی وجہ سے نقصان ہوئے ہیں مرکزی حکومت کی طرف سے جو ریلیف دیا گیا تھا اس پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوا جوکہ باعث تشویش ہے۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف اورنگران حکومت نے ڈآلر کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جس سے ڈالر کی قیمت 40سے 50روپے کم ہوگئی اوراسی طرح گزشتہ روز پٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی کی گئی جس کا فائدہ کسانوں کو نہیں مل سکاہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اسمگلنگ کو روکنے کیلئے اچھے اقدامات کئے جس طرح نگران وزیراعظم نے کپاس کے ریٹ کا نوٹس لیتے ہوئے مناسب ریٹ مقرر کیا اسی طرح اب بلوچستان کے کسانوں کا پیاز، ٹماٹر اور سیب کی فیصلیں تیار ہیں ہمسایہ ممالک سے انکی درآمد اوراسمگلنگ پر بھی پابندی عائد کی جائے تاکہ بلوچستان کے کسانوں کوانکی تیار فصلوں کا اچھا ریٹ مل سکے اگر ہمارے مطالبات پر10دن کے اندر عملدرآمد نہیں کیا گیا تو کسان ملک گیر احتجاج کریں گے جس کی تمام ترزمہ داری نگران حکومت اور متعلقہ اداروں پر ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں خالد حسین باٹھ نے کہا کہ حکومت کسانوں کو بینکوں کے ذریعے آسان اقساط پر ٹیوب ویلوں کیلئے سولرسسٹم فراہم کرے تاکہ انہیں بجلی کے مہنگے بلوں سے نجات مل سکے اور کسانوں کے بجلی کے بقایا جات معاف اور کرنٹ بل وصول کئے جائیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 23اکتوبر کو کوئٹہ میں کسان کنونشن منعقد ہوگا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سے اندرون صوبہ دو بوری کھاد لے جانے والے زمینداروں کو لکپاس چیک پوسٹ پر روک لیا جاتا ہے جبکہ ہمسایہ ملک ٹرکوں کے ٹرک کھاد اسمگل ہوجاتی ہے
ہمسایہ ممالک سے پیاز،ٹماٹر اورسیب کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے، خالد حسین باٹھ

ٹیگز:
خالد حسین باٹھ
