کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کا حل ہماری زمہ داری اور فرض ہے کوشش ہے کہ صوبے کو آئندہ مالی سال کے لئے ایک متوازن اور عوام دوست بجٹ دیں آمدنی اور اخراجات میں توازن برقرار رکھتے ہوئے ترقیاتی عمل کو آگے بڑھائیں ایسے منصوبوں کو ترجیح دیں جن سے عوام کی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے اور انکی آمدنی میں اضافہ سے غربت کی اثرات میں کمی آئے اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ اس وقت صوبے کی آمدنی کا انحصار این ایف سی سے حاصل ہونے والے حصہ پر ہے تاہم بہت سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے این ایف سی کی افادیت جمود کا شکار ہے اور وفاقی محاصل سے وقت کی ضروریات کے مطابق ہمارا حصہ نہیں مل رہا ہے ویراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ بلوچستان کی ترقی کے اہداف کے حصول اور اسکی پسماندگی کے خاتمے کے لئے ہمیں اپنے زرائع آمدن میں اضافہ کرنا ہوگا اور وفاقی محاصل پر انحصار کم سے کم کرنا ہو گا اگر ہم ہمیشہ وفاق کی جانب دیکھتے رہے تو صوبہ آئندہ سو سال تک بھی ترقی نہیں کرسکے گا و یراعلء نے کہا کہ خالق کائنات نے بلوچستان کو ہر قسم کے وسائل سے نوازا ہے جنکی ترقی اور انہیں بروئے کار لاکر ہم بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے زریعے انکا معیار زندگی بہتر بنا سکتے ہیں جیسے کہ ہم نے ریکو ڈک معاہدہ کرکے بلوچستان کے مفادات کا تحفظ کیا ہے وزیراعلء نے کہا کہ اس طرح کے بہت سے ریکو ڈک اپنی دریافت کے منتظر ہیں ریکو ڈک منصوبہ بلوچستان اور بلوچستانیوں کی تقدیر بدلنے کا منصوبہ ہے اس وقت تک ہم ایک محدود وسائل میں رہتے ہوئے بجٹ بناتے ہیں کبھی چادر سے سر باہر ہوتا تو کبھی پاؤں باہر نکل جاتے ہیں تاہم ریکو ڈک کے طے شدہ معاہدے کے مطابق آئندہ چار سے پانچ سال میں بلوچستان کو ریکو ڈک منصوبے سے آمدنی کا آغاز ہو جائیگا اور صوبہ خودانحصاری کی راہ پر گامزن ہوگا پھر ہمیں کسی کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ ہم وفاق کی بھی مدد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔
بلوچستان کی ترقی کے اہداف کے حصول اور اسکی پسماندگی کے خاتمے کے لئے ہمیں اپنے زرائع آمدن میں اضافہ کرنا ہوگا، وزیراعلیٰ بلوچستان

ٹیگز:
وزیراعلیٰ بلوچستان
