کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ شفاف انتخابات کے ذریعے ملک اور صوبے کوبحرانوں سے نکالا جا سکتا ہے، حلقہ این اے 265آج بھی اسٹے پر چل رہا ہے،قاسم خان سوری نے کیس پر اسٹے لینے کے بعد قومی اسمبلی سے استعفیٰ دیا جو کہ توہین عدالت ہے،اسٹیٹ این اے 265 میں لاٹری نکال کر کسی ایک شخص کو لانا چاہتی ہے، سپریم کورٹ سے مطالبہ ہے کہ حلقہ این اے 265کے کیس کا فیصلہ جلد از جلد سنایا جائے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ چند حلقوں میں دوبارہ الیکشن کروائے جائیں جس میں NA265بھی شامل ہے، 2018کے انتخابات کواپو زیشن جماعتوں نے جعلی انتخابات کہتے ہوئے حکومت کو سلیکٹڈقرار دیا تھا ہم نے حلقہ این اے 265سے الیکشن لڑنے کے بعد رزلٹ سے اتفاق نہیں کیا اور قانون کے مطابق الیکشن ٹریبونل کو در خواست دے کر عدالت کا دروزہ کھٹکٹایا جس کا فیصلہ 1سو20دن کے اندر آنے والے تھا ہماری کو شش تھی کہ شفاف انتخابات کے ذریعے صوبے کے پسماندہ عوام کی آواز کو بلند کریں۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن ٹریبو نل میں در خواست دی تھی کہ نادرا کے ذریعے وٹ کی تصدیق کی جائے اور نادرا نے فیس وصول کر نے کے بعد تصدیق کی کہ ان ووٹوں میں 2اضا فی پو لنگ اسٹیشنز کے 2ہزار 5سو ووٹ بھی شامل کئے گئے ہیں اور پھر بعد میں بھی 65ہزار ووٹ اور شامل کئے گئے جن میں پیروں کے انگو ٹھے کے نشان لئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک اور صوبے کے بحرانوں کا مسئلہ اس وقت حل ہو سکتا ہے کہ جب شفاف انتخابات کے ذریعے ہم اسمبلی میں بیٹھ کر بات کریں۔ انہوں نے کہاکہ 2019میں جب کیس جیتے تو ری الیکشن کے لئے ٹریبو نل نے فیصلہ دیا میرے مخالفین جن کے خلاف سپریم کورٹ میں فیصلہ گیا تھا انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی کہ جس کے بعد میں نے سپریم کورٹ میں پیش ہو کر سپریم کورٹ سے وقت مانگا لیکن سپریم کورٹ نے بغیر میرے وکیل کو سنے اسٹے دے دیا کیو نکہ وہ چہیتوں کو پار لیمنٹ میں بیٹھا نا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے ملک آج بحران کا شکار ہو گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ کیس آج بھی زیر سماعت ہے میں نے بھر پور کوششیں کی اسٹے کو جلداز جلد ختم کروا سکوں کیونکہ میرے صوبے کی آواز کو دبایا گیا ہے اسٹیلشمنٹ کا رویہ سمجھ سے بالا تر ہے۔ انہوں نے کہاکہ قاسم خان سوری نے کیس پر اسٹے لینے کے بعد قومی اسمبلی سے استعفیٰ دیا جس کا مطلب ہے کہ و ہ توہین عدالت کر رہا ہے اور اگر الیکشن کمیشن اس حلقے میں پر ری الیکشن کرواتی ہے توچیف الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ اسکی وضاحت کر ے کیا یہ توہین عدالت نہیں ہے؟۔ انہوں نے کہاکہ حلقہ این اے 265جو اسٹے پر چل رہا ہے الیکشن کمیشن کیسے اس پر الیکشن کرواسکتی ہے اسٹیٹ این اے 265 میں لاٹری نکال کر کسی ایک شخص کو لانا چاہتی ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ این اے 265پراسٹے لینے والے شخص جس نے استعفیٰ دے دیا اسکا نو ٹس لے۔ انہوں نے کہاکہ تین سے چار ماہ کا الیکشن سمجھ سے باہر ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ تھا کہ دوبارہ وہ لوگ الیکشن لڑ سکتے ہیں جنہوں نے پچھلی بار بھی کاغذات نامزدگی جمع کروائی تھی۔انہوں نے کہا کہ سیا سی نظام جن حالات سے گزر رہا ہے کیا لگتا ہے کہ وہ مسائل کو حل کر سکے گی سیا سی نظام نے آج ملک کو بحرانوں میں دھکیل دیا ہے جس کی وجہ سے سب میں مایو سی پائی جا تی ہے۔ انہوں نے کہاکہ شاہد خاقان عباسی نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ وہ نئی پارٹی نہیں بنانے جا رہے ہماری پارٹی بلو چستان اسکے حقوق ہیں اگر ان حقوق کا جو بھی دفاع کرے گا ہم انکے ساتھ ہو نگے۔
٭٭٭٭
اسٹیٹ این اے 265 میں لاٹری نکال کر کسی ایک شخص کو لانا چاہتی ہے،نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی

