کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) خواتین کو جو حقوق دین اسلام نے دیئے ہیں مغرب میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ان خیالات کا اظہار بلوچستان عوامی پارٹی کی مرکزی نائب صدرسینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کی نائب صدر منتخب کرنے پر پارٹی کے مرکزی صدر و وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور پارٹی رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے اُن پر جس اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بی اے پی کی مرکزی نائب صدر کے لئے انتخاب کیاہے اس کے لئے تمام پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے مجھے اس اہم منصب کے لئے منتخب کیا اور مجھے یہ اہم ذمہ داری سونپی۔انہوں نے کہا کہ مجھ پر جو ذمہ داری ڈالی گئی ہے اسے پارٹی اور بلوچستان کے عوام کے مفادات کے لئے احسن طریقے سے نبھانے کی حتی الوسع کوشش کرتے ہوئے پارٹی اور بلوچستان کے عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کروں گی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بلوچستان کے حقوق و مسائل پرہر فورم پر موثر آواز اٹھائی ہے اور آئندہ بھی بلوچستان کے مفادات اور حقوق کے حصول کے لئے آواز اٹھاتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ بی اے پی جمہوری اقدار پر یقین رکھتی ہے اور ہماری سیاست کا محور عوام کی فلاح و بہبود اور یکساں تیز رفتار ترقی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کو اس وقت مضبوط اور مستحکم سیاسی و معاشی نظام کی ضرورت ہے۔ ہمارے لئے پاکستان کے مفادات سب سے پہلے ہونے چاہئیں اور ہماری پارٹی سیاسی درجہ حرارت کو اعتدال پر لانے کے لئے افہام و تفہیم سے موثر کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ پاکستانی خواتین خاص کر بلوچستان کی خواتین باشعور، باہمت اور تعلیم یافتہ ہیں اورسیاست سمیت معاشرے کے ہر طبقے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین معاشرے کا اہم حصہ اور بلوچستان میں خواتین کے حقوق کے لئے بھرپور کام کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کسی بھی معاشرے کا اہم ستون ہیں جنہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، معاشرے کی ترقی میں خواتین کا اہم کردار ہے اور کوئی بھی معاشرہ خواتین کی شرکت کے بغیرترقی نہیں کر سکتا۔ پاکستان کی نصف آبادی یعنی خواتین کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے مواقع فراہم کرنا ناگزیر ہے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ معاشرے میں خواتین کو مختلف مسائل کا سامنا ہے جس کے سدباب کے لئے ہر سطح پر ہمیں جامعہ پالیسی بنانی ہو گی اور ان پر عملدرآمد کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے۔آئین پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کی مضبوطی کے بغیر کسی بھی معاشرے کی مضبوطی ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہنر مند اور خود مختار خواتین معاشرے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اوراس کی تعمیر و ترقی میں خواتین کے مثبت اور تعمیری کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا خواتین کو بااختیار بنانے اور تحفظ کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اوریہ اسلام ہی کی خوبصورتی ہے کہ خواتین کی عزت و احترام ہماری سماجی، معاشرتی و مذہبی اقدار کا حصہ ہے اوریہاں خواتین کو اسلامی اقدار میں رہتے ہوئے اپنے جائز حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کی اجازت ہے۔
خواتین کو اسلامی اقدار میں رہتے ہوئے جائزحقوق کیلئے آواز بلند کرنے کی اجازت ہے، ثمینہ ممتاز زہری

ٹیگز:
ثمینہ ممتاز زہری
