کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے نقیب اللہ محسود قتل کیس میں باقی سات پولیس اہلکاروں کی بریت پر شدید افسوس اور سخت مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نقیب اللہ محسود کے بہیمانہ قتل کے آٹھ سال بعد بھی ان کے خاندان کو انصاف نہ ملنا ملک کے عدالتی، تفتیشی اور ریاستی احتساب کے نظام کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ سوال ہے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ نقیب اللہ محسود کو جنوری 2018ء میں کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلے کے نام پر قتل کیا گیا، جبکہ بعد ازاں ریاستی تحقیقات میں نقیب اللہ محسود اور دیگر افراد کے خلاف کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ملنے اور نقیب اللہ کو بادی النظر میں جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیے جانے کی نشاندہی کی گئی۔ پارٹی نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا، جس کے باوجود برسوں بعد مقدمے کے تمام نامزد ملزمان کا بری ہوجانا کئی اہم قانونی اور ریاستی سوالات کو جنم دیتا ہے۔پارٹی نے کہا کہ جب ریاستی تحقیقاتی اداروں کی رپورٹ میں ایک شہری کے قتل کو ماورائے عدالت قتل قرار دیا گیا، مقتول کے خلاف کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہ ہونے کی نشاندہی ہوئی اور ایک پولیس افسر کے کردار کے حوالے سے سنگین نتائج سامنے آئے تو ان تحقیقات کے بعد عملی انصاف کیوں یقینی نہیں بنایا گیا۔ پارٹی نے واضح کیا کہ عدالتوں کے فیصلے اپنی قانونی حیثیت رکھتے ہیں، تاہم حکومت اور ریاستی ادارے ریاستی تحقیقاتی رپورٹس میں سامنے آنے والے بنیادی سوالات سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ نقیب اللہ محسود کا معاملہ صرف ایک فرد کے قتل کا مقدمہ نہیں بلکہ ماورائے عدالت قتل، پولیس اختیارات کے ناجائز استعمال، شہریوں کے بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی سے جڑا ہوا اہم مسئلہ ہے۔ ایک نوجوان شہری کو پہلے دہشت گرد قرار دینا، پھر ریاستی تحقیقات میں اس کے خلاف کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ملنا اور واقعے کو بادی النظر میں جعلی مقابلہ قرار دیا جانا اس معاملے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔پارٹی نے مطالبہ کیا کہ نقیب اللہ محسود قتل کیس سے متعلق تمام سابقہ تحقیقاتی رپورٹس، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے نتائج اور عدالتی ریکارڈ کا جامع جائزہ لیا جائے، نقیب اللہ محسود کے خاندان کو تمام دستیاب قانونی راستوں کے ذریعے انصاف کے حصول کا مؤثر موقع فراہم کیا جائے اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات میں ریاستی اہلکاروں کے کردار کا غیر جانب دارانہ احتساب یقینی بنایا جائے۔ پارٹی نے کہا کہ اگر ریاستی تحقیقات میں سامنے آنے والے نکات اور عدالتی فیصلے کے درمیان کوئی تضاد موجود ہے تو اسے قانون کے مطابق دور کیا جانا چاہیے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری صرف تحقیقاتی کمیٹیاں یا جے آئی ٹی تشکیل دینا نہیں بلکہ تحقیقات کے نتائج کو منطقی انجام تک پہنچانا اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنا بھی ہے۔ نقیب اللہ محسود کے خاندان کو یہ حق حاصل ہے کہ ریاست انہیں واضح جواب دے کہ ان کے بیٹے کو کس بنیاد پر دہشت گرد قرار دیا گیا، اسے پولیس کے قبضے میں کیسے لیا گیا، مبینہ مقابلے کی حقیقت کیا تھی اور ریاستی تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آنے والے سنگین نکات کا کیا نتیجہ نکلا۔پارٹی نے کہا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی اسی وقت مضبوط ہوگی جب طاقتور اور بااثر ریاستی اہلکار بھی قانون کے سامنے جواب دہ ہوں گے اور کسی شہری کی جان کو سرکاری اختیار کے پردے میں غیر محفوظ نہیں بنایا جائے گا۔ نقیب اللہ محسود کا خون اور ان کے خاندان کی آٹھ سالہ جدوجہد شہری آزادی، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور ریاستی جواب دہی کا بنیادی سوال ہے، جسے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ہر جمہوری اور آئینی فورم پر اٹھاتی رہے گی۔
نقیب اللہ محسود کے خاندان کو تمام دستیاب قانونی راستوں کے ذریعے انصاف کے حصول کا مؤثر موقع فراہم کیا جائے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

