کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) تحریک تحفظ آئین پاکستان بلوچستان کا اجلاس پشتونخوامیپ کے مرکزی سیکرٹریٹ میں مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیاتوال کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی قائدین کے اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں 22مئی بروز جمعہ ملک گیر احتجاج کو زیر غور لایا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ 22مئی بروز جمعہ شام پانچ بجے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے پر امن احتجاجی مظاہرہ ہوگا اور تمام اتحاد میں شامل تمام پارٹیوں کے کارکنان بڑی تعداد میں شرکت کرینگے۔ اور 24مئی بروز اتوار کو علمدار روڈ پرمجلس وحدت المسلمین کی جانب سے ایک بڑا عوامی اجتماع منعقد ہوا۔اجلاس میں صوبے بھر کے اضلاع میں تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل تمام جماعتوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ فوراً اپنے اجلاس منعقد کرکے جمعہ کے روز احتجاجی مظاہروں کے انعقاد کو یقینی بنائیں اور اس سلسلے میں مکمل تیاری کریں۔ اجلاس میں پشتونخوامیپ کے رہنماؤں کبیر افغان، نصیر ننگیال، ملک عمر کاکڑ، نظام عسکر، بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں حاجی میر وحید لہڑی، جاوید بلوچ، میروائس مینگل، صدیق لانگو، رضا جان شاہی زئی، مجلس وحدت الملسمین کے رہنماؤں علامہ شیخ ولایٹ حسین جعفری، محمد یونس، حاجی غلام حسین، فرید احمداور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء سردار زین العابدین خلجی نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس میں گزشتہ روز میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھر میں بدترین مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے، ملک میں جاری لاقانونیت، عمران خان کو فوری ہسپتال منتقل کرنے اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔اورجمعہ کو ملک بھر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔کوئٹہ میں بھی عظیم الشان احتجاجی مظاہرے کا انعقاد پریس کلب کوئٹہ کے سامنے کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کے کارکنان کو مظاہروں کی تیاری، بروقت شرکت کی ہدایت کی گئی ہے اور سیاسی جمہوری کارکنوں، جمہوریت پسند عوام سے احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔ اجلاس سے عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ فارم 47 کی مسلط حکومت /حکومتوں نے ملک کوتاریخ کے بدترین بحرانوں میں دھکیل دیا ہے۔آئین پائمال، پارلیمنٹ کی بے توقیری، عدلیہ کے پرکاٹنے، میڈیا کی آزادی چھین لی گئی ہے۔ عوام کو بجلی، گیس، پینے کے صاف پانی، روزگار اور امن سے محروم کردیا گیا ہے۔ ہر طرف خوف وہراس کا ماحول ہے، شاہراہیں سفر کے لیے غیر محفوظ ہوچکی ہیں۔کرپشن، پرسنٹیج، کمیشن کے تحت عوامی خدمت کے تمام اداروں کو تباہ کردیا گیا ہے۔ اور ایسے میں مسلط حکمرانوں اور نام نہاد نمائندوں کا سب ٹھیک ہے کا وایلا کرنا دراصل سرکاری خزانے کی لوٹ مار اور عوام کے زمینوں، وسائل، معدنیات ومال ومتاع پر ہاتھ صاف کرنے کے مکروہ عمل کو مزید جاری رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے آنے والی خبریں انتہائی تشویشناک ہیں انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں جائیں۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان اپنے مرکزی اکابرین کی ہدایت پر ہر قسم کے سیاسی جمہوری احتجاج کے لیے تیار ہیں۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان بلوچستان کا اجلاس عبدالرحیم زیارتوال کی زیر صدارت منعقد، نیشنل پارٹی کے رہنماؤں حاجی میر وحید لہڑی، جاوید بلوچ، میروائس مینگل، حاجی صدیق لانگوکی شرکت

ٹیگز:
تحریک تحفظ آئین
