اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)سیکریٹری پٹرولیم، وزارت توانائی مومن آغا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں اب تک 5 سے 6 ہزار ایسی گاڑیاں ضبط کی جا چکی ہیں جو اسمگل شدہ پیٹرول کی ترسیل میں ملوث تھیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد غیر قانونی اسمگلنگ کو روکنا ہے، تاکہ قومی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔مومن آغا نے واضح کیا کہ بارڈر کے ذریعے لائسنس یافتہ گاڑیوں کے ذریعے پیٹرول لانے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے، بلکہ مجوزہ اقدامات صرف ان بڑے آئل ٹینکرز کے خلاف ہیں جو 40 ہزار لیٹر سے زائد پیٹرول ملک میں منتقل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے بڑے پیمانے پر پیٹرول کی اسمگلنگ سے نہ صرف ملکی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ مقامی مارکیٹ بھی غیر متوازن ہو رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں جو بارڈر کے ذریعے محدود مقدار میں پیٹرول لاتی ہیں، ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، تاکہ عام عوام کے روزگار اور معمولات زندگی متاثر نہ ہوں۔ سیکریٹری پٹرولیم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت صرف بڑے اسمگلروں کے خلاف کارروائی کرے گی اور عوامی سطح پر مشکلات پیدا نہیں ہونے دی جائیں گی۔
بلوچستان میں 5سے 6ہزار اسمگلنگ میں ملوث گاڑیاں ضبط کر لی گئیں، سیکریٹری پٹرولیم

ٹیگز:
بلوچستان
