کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے کہا ہے کہ مستونگ میں دہشتگردوں نے تحصیل آفس کو نشانہ بنایا، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے چار دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ حملہ آوروں نے بینکوں سے چار کروڑ کی رقم لوٹ لی۔یہ بات انہوں نے جمعرات کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ دیر کے لیے ایسا تاثر پیدا ہوا کہ ریاست کی رٹ کمزور ہے، تاہم سیکیورٹی فورسز نے ثابت کیا کہ ریاست ہر حال میں اپنی عملداری برقرار رکھے گی۔انہوں نے بتایا کہ حملے کے بعد حکومت نے سیکیورٹی پلان کا ازسر نو جائزہ لیا اور فوری طور پر نئے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بجٹ میں ڈسٹرکٹ کوا?رڈینیشن کمیٹی فورم کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا مقصد ضلعی انتظامیہ کو مزید بااختیار بنانا ہے۔شاہد رند نے واضح کیا کہ کسی ڈپٹی کمشنر کو پروجیکٹ ڈائریکٹر مقرر نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستونگ میں دہشتگردی کے ساتھ ساتھ بینکوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور 4 کروڑ روپے لوٹ لیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ بینکوں کی حفاظت نجی سیکیورٹی کمپنیوں کی ذمہ داری ہے، تاہم حکومت نے سرکاری املاک کے ساتھ ساتھ مالیاتی اداروں کی حفاظت کے لیے بھی مزید اقدامات شروع کر دیے ہیں۔بلوچستان کے بجٹ پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کے جواب میں شاہد رند نے کہا کہ حکومت نے عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن اور ترقیاتی بجٹ پیش کیا ہے، جس میں سیکیورٹی کے شعبے پر بھی بھرپور توجہ دی گئی ہے۔
مستونگ میں دہشتگردوں نے تحصیل آفس کو نشانہ بنایا،بینکوں سے چار کروڑ کی رقم لوٹ لی ٗ شاہد رند

ٹیگز:
شاہد رند
