کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)فپواسا بلوچستان چیپٹر و اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ, فپواسا کے مرکزی و اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری فریدخان اچکزئی، ایایس اے کے نائب صدر ڈاکٹر شبیر احمد شاہوانی،جوائنٹ سیکرٹری میڈم زہرا ملغانی، پریس سیکرٹری رحمت اللہ اچکزئی، فنانس سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر صاحبزادہ باز محمد کاکڑ اور ایگزیکٹیو ممبران ارباب رضا کاسی، میڈم فرحانہ عمر مگسی، ڈاکٹر محب اللہ کاکڑ، ڈاکٹر گل محمد اور مسعود مندوخیل، نے اپنے ایک مشترکہ سخت مذمتی بیان میں کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے بلوچستان یونیورسٹیز کے پالیسی ساز اداروں سے منظور شدہ الاونسز کی خاتمے کے حوالے سے غیرقانونی نوٹیفکیشن کو اگر فوری طور پر واپس نہیں لیا توصوبے بھر کی جامعات میں اگلے ہفتے سے احتجاجا کلاسوں کا بائیکاٹ، ٹرانسپورٹ بند اور مکمل تالا بندی کی جائے گی جسکی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔ بیان میں تمام وائس چانسلرز سے اپیل کیا کہ وہ اس غیرقانونی نوٹیفکیشن کو نافذ نا کرنے دیں اور اپنے اساتذہ و ملازمین کا ساتھ دیں۔ بیان میں واضح کیا کہ انتہائی مضحکہ خیز بات ہے کہ صوبائی سول و گورنر سیکرٹریٹ سمیت دیگر تمام سرکاری اداروں کے آفیسران و ملازمین خود یوٹیلٹی، ایگزیکٹو اور دیگر کئی الاونسز سمیت ہاوس ریکوزیشن لے رہے ہیں لیکن بلوچستان کے یونیورسٹیوں کے اساتذہ کرام اور ملازمین کو ان منظور شدہ الاونسز سے سے غیر قانونی طور پر محروم رکھا جارہا ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ھوسکتا۔بیان میں صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ 26-2025 کے سالانہ بجٹ میں صوبے کی یونیورسٹیوں کے بجٹ میں کم ازکم 15 ارب روپے تک کا اضافہ کریں۔
الاونسز کی غیر قانونی کٹوتی کسی صورت قبول نہیں،ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ،پروفیسر رحمت اللہ

ٹیگز:
ڈاکٹر کلیم اللہ
