کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) سیاسی وسماجی رہنماء اوروسول سوسائٹی کے نمائندوں نے کہا ہے کہ بجٹ سازی میں عوامی مفادکے منصوبوں کوشامل کرناچاہئے، جس کیلئے لوگوں کی رائے ضروری ہے، مالی معاملات میں شفافیت کوبرقراررکھنے کیلئے اقلیتوں اورمعذورافرادکیلئے بجٹ کوآسان بنایاجائے۔ یہ بات ڈسٹرکٹ کونسل مستونگ کے وائس چیئرمین میر صادق کرد، نیشنل پارٹی کے سینئر صوبائی رہنما میر سکندر خان ملازئی،پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر حاجی ضیا الحق ابابکی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء ٹکری نوراحمد قمبرانی،جمعیت علماء اسلام کے رہنمائحافظ خالد محمود ودیگرمقررین نے ”سی پی ڈی آئی“کے زیراہتمام ”پاکستان میں بجٹ کی شفافیت کی صورتحال، بین الاقوامی بہترین طرز عمل“ بجٹ سازی میں شفافیت کے حوالے سے مستونگ ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں منعقدہ ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سماجی تنظیم آئز آرگنائزیشن کے سربراہ سمیع شارق نے ورکشاپ کے شرکاء کو بجٹ کی شفافیت کے حوالے سے بریفنگ دی۔شرکاء نے رپورٹ میں وفاقی اور صوبائی سطحوں پر بجٹ سازی کے عمل میں خامیوں کی نشاندہی کی اور بجٹ تجاویز پر شہری گروپوں، حکومتی اداروں اور اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع پیمانے پر تبادلہ خیال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سی پی ڈی آئی کی جانب سے بجٹ رپورٹ کے اجراء کامقصدصرف نتائج پیش کرنا نہیں ہے بلکہ حکومتوں، سول سوسائٹی اور بڑے پیمانے پر شہریوں کے درمیان گفتگوکے عمل کوآگے بڑھانے میں معاونت کرناہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو شہریوں کی شرکت کو فروغ دینے کے لیے ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم شروع کرنے اورشہریوں کیلئے آسان بجٹ پیش کرنے کیلئے اقسامات کرناہے جس میں ملک گیر عوامی مشاورت، بشمول ٹاو ¿ن ہال میٹنگز اور ورکشاپس کے آغاز کو ترجیح دینی چاہیے۔ رپورٹ میں خواتین، اقلیتوں، بچوں اور معذور افرادکے لیے الگ الگ بجٹ اسٹیٹمنٹ جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جس میں ہر گروپ کی منفرد ضروریات اور چیلنجوں کے مطابق مخصوص مختص اور حکمت عملیوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں پاکستان میں سٹیزن بجٹ پیش کرنے کے عمل کو مخصوص قانون سازی یا ضوابط کے ذریعے باقاعدہ بنائے جانے پر زور دیا گیا ہے۔ سی پی ڈی آئی کی رپورٹ کے مطابق، حکومتوں کو بجٹ کا ڈیٹا ایکسل اور سی ایس وی جیسے وسیع پیمانے پر مشین سے پڑھنے کے قابل فارمیٹس میں دستیاب کرانا چاہیے۔اس کے علاوہ بجٹ سازی کے عمل میں شہریوں کی شرکت کو قانونی تحفظ دیا جائے اور حکومتی اداروں کو بجٹ سازی کے عمل کے مختلف مراحل کے دوران شہریوں سے مشاورت کا پابند بنایا جائے، خاص طور پر بجٹ کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد کے دوران ارکان پارلیمنٹ کے کردار کو بڑھایا جائے۔اس موقع پرآئز آرگنائزیشن کے سربراہ سمیع شارق نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی سے، سی پی ڈی آئی پاکستان میں بجٹ سازی کے عمل کو ضلع سے وفاقی سطح تک بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ اس میں شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔اس کے نتیجے میں “پاکستان میں بجٹ کی شفافیت کی صورتحال 2023” پر مبنی چوتھی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ نہ صرف بجٹ کی شفافیت کا جائزہ لیتی ہے بلکہ پاکستان میں بلکہ بجٹ کی معلومات کے حصول کے لیے پاکستان میں اطلاعات تک رسائی کے قوانین کی مو ¿ثریت کا اندازہ لگانے میں بھی مدد کرتی ہے۔تربیتی ورکشاپ کے شرکاء سے شبیر احمد شاہوانی،عبدالحفیظ برڑو،محمد عظیم پروانہ،گرینڈ الائنس کے وائس چیئرمین میر عبدالعلیم شاہوانی، میر احمد بلوچ جاوید بلوچ، حاجی افتخار احمد آبیزئی، آغا نصیر شاہ ودیگرنے بھی خطاب کیا۔
بجٹ سازی میں عوامی مفادکے منصوبوں کوشامل کرناچاہئے، سول سوسائٹی

ٹیگز:
سول سوسائٹی
