تربت(ڈیلی گرین گوادر) نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاکہ بلوچستان کے عوام کو جہالت غربت اور بے روزگاری کے خلاف متحد ہوکر سیاسی جنگ لڑنا ہوگا بلوچ کی جدوجہد وسائل پر حق اختیار، سیاسی حق حاکمیت اور سیاسی اختیار، تعلیم اور روزگار کے لیے ہیے پانچ سال تک اقتدار میں رہنے والوں نے تعلیمی ادارے اور ہسپتالوں میں کوئی کام نہیں کیا آج تربت ہسپتال میں سرنج تک دستیاب نہیں ہے۔ یہ بات انہوں نے آپسر تربت میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہاکہ آپسر کے قبرستان کی زمین پر بھی قبضہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بارڈر بلوچ کے روزگار کا زریعہ ہے جان محمد بلیدی کی بارڈر بندیش کے خلاف جلسہ جلوس و دھرنا کی وجہ سے سرحدی تجارت بحال ہوا۔ یہ سمگلنگ نہیں ہمارا روزگار ہے بارڈر بندش کسی صورت بھی قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل پارٹی کی تعلیمی پالیسی کے بدولت آج ہمارے بچے لاہور و اسلام آباد کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں انہوں نے کہاکہ عوام نے این پی کو مینڈیٹ دیا تو اتنے یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے بلوچستان میں بنائیں گئے کہ پاکستان کے دیگر علاقوں کے طلبا یہاں تعلیم حاصل کرنے آجائیں۔ جلسہ سے نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی، صوبائی صدر سابق صوبائی وزیر رحمت صالح بلوچ، واجہ ابوالحسن، جسٹس شکیل احمد بلوچ، بی ایس او کے چیئرمین بوھیر صالح بلوچ، واجہ حاجی یاسین بلوچ، طاہرہ خورشید، شاری بلوچ، ایڈوکیٹ گل سمین، محمد اقبال بلوچ، احسان درازئی اور دیگر نے بھی خطاب کیا انہوں نے کہاکہ گزشتہ صوبائی حکومت تاریخ کی کرپٹ ترین حکومت رہی ہیں کرپشن اور اقربا پروری کے ریکارڈ بنائے ہیں انہوں نے کہاکہ تربت سٹی پروجیکٹ کے فیز ٹو اور تری کے فنڈز کو کرپشن کی نظر کیا گیا بلیدہ سٹی پروجیکٹ کے پانچ ارب کے فنڈ زمین پر نظر نہیں آرہا ہے ایک کلو میٹر روڈ بھی نہیں بنایا گیا تمام فنڈز صوبائی وزرا اور ڈیپارٹمنٹ کے کرپشن کی نظر ہو گئے ہیں کیچ یونیورسٹی کے فیز ٹو اور تری بھی کرپشن کی نظر ہوا ان پر انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں اور زمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی موضع اور زیارت موضاجات سمیت پانچ موضاجات کی غلط سٹلمینٹ کی گئی وزرا نے ڈیپارٹمنٹ کے کرپٹ افسران سے مل کر یونیورسٹی اور اسٹیٹ لینڈ اپنے نام کردیے ہیں یونیورسٹی کی زمین پر اپنی ہاؤسنگ اسکیم بنائے گئے ہیں ان تمام کی تحقیقات ہونی چائے اور زمہ داروں کے خلاف کاروائی کی ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہاکہ زرعی بندات کے نام پر کروڑوں کی خرد برد تربت ہوشاپ اور بلیدہ میں کیا گیا ہے ایک ایک پروجیکٹ پر تین تین بار فنڈز جارہی کئے گئے ہیں بلیدہ زامران روڈ فنڈز بھی ہڑپ کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وقت آگیا ہے کہ کرپٹ عناصر اور لینڈ مافیا پر زمین تنگ کی جائے۔
بلوچستان کے عوام کو جہالت غربت اور بے روزگاری کے خلاف متحد ہوکر سیاسی جنگ لڑنی ہوگی، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

ٹیگز:
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ
