کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے کہ شہید بازمحمد کاکڑ فاونڈیشن کے زیر اہتمام سانحہ 8 اگست وکلا شہدا کے حوالے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس میں شریک افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ 8 اگست کے شہید وکلا ہمارے آثاثہ تھے ان کے بچھڑ جانے سے ہمارا پورا صوبہ لاوارث ہوگیا. آٹھ اگست کے دہشت گردی کے واقعہ میں ہم صوبہ کے متعدد ماہر قانون سے محروم ہوئے جو یقینا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے آج بھی وقت ہیں کہ ہم سب سر جوڑ کر بیٹھیں اور اپنے مسقبل کے تحفظ کیلئے ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کریں ان خیالات کا اظہار انہوں نے سانحہ 8 اگست وکلا شہدا کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور دیگر صوبوں سے آئے ہوئے مہمانان گرامی ہارون رشید، احمد فاروق خٹک، نعیم قریشی، بشری قمر، یاسین آزاد، شہید باز محمد فاونڈیشن کے چیرمین ڈاکٹر لال محمد کاکڑ، سابق سنیٹر روشن خورشید بروچہ سمیت وکلا برادری، فیمیل پروفیسر حضرات، علما کرام اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شریک تھے. تعزیتی ریفرنس کے حوالے سے گورنر بلوچستان کا کہنا تھا کہ تعزیتی رہفرنس بذات خود ایک قسم کا احتجاج ہے. آج یوم شہدائے وکلا منانے کا مقصد دراصل سانحہ 8 اگست کوئٹہ میں شہید ہونے والے وکیلوں کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے. انہوں نے شہید وکلا کے حوالے سے باز محمد شہید فاونڈیشن کے چیرمین ڈاکٹر لال اور ان کی پوری ٹیم کی انتھک کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان تمام شہدا کی گرانقدر خدمات اور قربانیاں ہیں جن کو تادیر یاد رکھا جائے گا. صوبے میں ہونے والے دہشتگردی کے مختلف واقعات اور سانحات کے حوالے سے کہا کہ ہمیں ایسا مشترک لائحہ عمل طے کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں. انہوں نے کہا کہ تعزیتی ریفرنس کے حوالے سے آج جو کچھ کہا اپنے ضمیر کے مطابق کہا. آخر میں تمام شہدائے وکلا اور ان کے ورثا کیلئے خصوصی دعا کی۔
سانحہ 8 اگست کے شہید وکلا ہمارے آثاثہ تھے، گورنر بلوچستان

ٹیگز:
گورنر بلوچستان
