اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے چیئرمین پی ٹی آئی پر کسی بھی قسم کے تشدد کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کیخلاف ریفرنس بغیر گرفتاری کے چلایا جا سکتا تھا، اگر وہ شامل تفتیش ہو جاتے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا عمران خان کی گرفتاری کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کیخلاف کیس باقاعدہ ڈاکیومنٹڈ ہے، ان کو کئی نوٹسز جاری کئے گئے لیکن وہ کبھی پیش نہیں ہوئے عمران نیازی کو آج نیب نے گرفتار کیا ہے،عمران خان کے خلاف درجنوں مقدمات درج ہیں۔عمران خان کے خلاف نیب میں کرپشن کیسز میں تحقیقات جاری ہیے،قانون کے مطابق 60ارب روپے کی رقم پاکستان کی امانت تھی۔
برطانیہ کی حکومت نے پاکستان سے رابطہ کیا اور رقم کی منتقلی کی بات کی۔ شہزاد اکبر معاملے کے درمیان میں آیا اور معاملات طے کیے گئے۔معاملے کے تحت القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی۔عمران خان اور ان کی اہلیہ القادر یونیورسٹی کے ٹرسٹی ہیں۔القادر ٹرسٹ کے نام پر 7ارب روپےکی پراپرٹی منتقل ہوئی،اس سارے معاملے میں شہزاد اکبر نے اپنے حصے کے 2ارب روپے وصول کیے۔
وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی گرفتار پر شور کرنے والے بتائیں القادر یونیورسٹی کے ٹرسٹی کون ہیں۔عمران خان خود کرپشن کررہا تھا، مخالفین کے خلاف جھوٹے کیسز بنا رہا تھا۔ایک طرف چور اور ڈاکو کے نعرے تو دوسری طرف ملک کو 60ارب کا ٹیکہ لگایا۔کسی کو قانونی عمل میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔پی ٹی آئی دور میں ن لیگ کی قیادت کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے:توشہ خانہ سے تحفے چوری کیے گئے اور پھر بیرون ملک اونے پونے داموں بیچے گئے۔ تحفے بیچنے کیلئے جعلی رسیدیں بنائی گئیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ نیب کی جانب سے قومی خزانےکو نقصان پہنچانے پرعمران خان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی لیکن ان پر تشدد کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے ان کا کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب ) ایک خود مختار ادارہ ہے، حکومت کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے، میری آج تک چیئرمین نیب سے کوئی ملاقات نہیں ہے۔نیب نے پہلے عمران خان کو نوٹس جاری کیا اور شاملِ تفتیش ہونے کا کہنا تھارانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری پر واویلا کرنے والے بتائیں کہ القادر یونیورسٹی کا ٹرسٹی کون ہے؟ پی ٹی آئی لیڈروں کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اس کیس کو جھٹلا کر دکھائیں۔

