گوادر (ڈیلی گرین گوادر) پندرہ سال گزرنے کے بعد بھی پسنی فش ہاربر جیٹی بحال نہ ہوسکی، ہزاروں ماہی گیر بیروزگار، معاشی حب کے خاتمے سے علاقے کی معیشت شدید متاثر، جاپانی گرانٹ کے بعد بھی جیٹی بحالی کا منتظر ہے۔تفصیلات کے مطابق 30 سال قبل جرمن حکومت کی تعاون سے 56 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی فش ہاربر جیٹی گزشتہ 15 سالوں سے غیر فحال ہے، منوں مٹی میں دھنس جانے کے بعد پسنی اور گرد و نواح کے لوگوں کی ذریعہ معاش ختم ہوکر رہ گیا ہے اور علاقے کی معیشت مکمل طورپر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جاپانی حکومت نے پسنی فش ہاربر جیٹی بحالی کی غرض سے اس وقت کے حکومت کو 80 کروڑ روپے کی خطیر رقم جاری کی تھی، مگر بدقسمتی سے پندرہ سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود پسنی فش ہاربر جیٹی اب بھی بحالی کی منتظر ہے۔واضح رہے کہ ماضی میں یہ فش ہاربر جیٹی ملک کی معیشت کو سہارا دینے والی منافع بخش ادارہ تھا جو کہ ملک کی زرمبادلہ کا اہم ذریعہ تھا، جو کہ مختلف ادوار کے حکومتوں، بیوروکریسی اور متعلقہ اداروں کی عدم توجہی کے باعث آج کل مکمل طورپر ناکارہ ہوکر پلے گراونڈ کا منظر پیش کررہا ہے جہاں ماضی میں بڑے بڑے کارگو جہاز بیرون ملک سے پسنی فش ہاربر جیٹی آکر لنگر ہوتے تھے۔مقامی ماہی گیروں کے مطابق اگر حکومت اب بھی جاپانی گرانٹ کے مذکورہ رقم کو سنجیدگی سے کسی غیر ملکی فرم سے جیٹی بحالی کے لیے اقدامات اٹھائے تو نہ صرف علاقے کی معیشت میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ بیروزگاری کی شرح میں بھی کمی آئے گی۔مقامی ذرائع کے مطابق پسنی سمیت گرد و نواح میں 80 سے 90 فیصد لوگوں کا ذریعہ معاش شعبہ ماہی گیری سے منسلک ہے۔ پسنی فش ہابر جیٹی کی عدم بحالی سے علاقے کے لوگوں میں مایوسی، بے چینی اور اضطراب کی صورتحال ہے جو کہ کسی بھی طرح مثبت عمل نہیں ہے۔مقامی ماہی گیروں کے مطابق چند سال قبل قوم پرست پارٹیوں کی جانب سے جیٹی بحالی کے لئے احتجاج بھی کیا تھا مگر حکومت سطح پر کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی گئی۔واضح رہے کہ پسنی فش ہاربر جیٹی کی عدم بحالی اور منوں مٹی میں دھنس جانے کے بعد مقامی ماہی گیروں نے پسنی شہر سے دور سمندر کنارے پر بغیر جیٹی کے اپنے چھوٹے کشتیوں کی آمد و رفت کے لئے اپنی مدد آپ انتظامات کرلئے ہیں مگر وہاں عام ماہی گیروں کے لیے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہے۔
پندرہ سال گزرنے کے بعد بھی پسنی فش ہاربر جیٹی بحال نہ ہوسکی

ٹیگز:
فش ہاربر
