کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بی این پی کے رکن صوبائی اسمبلی میر اختر حسین لانگو نے کہا ہے کہ جعلی ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹس کی کسی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی‘ جعلسازوں کا ہر فورم پر مقابلہ کیا جائیگا لیکن اس کی آڑ میں صوبے کی حقیقی آبادی کو نشانہ بنانا درست نہیں ہے۔اسی تناظر میں گزشتہ دنوں بلوچستان اسمبلی میں قرار داد پیش کی جسے متفقہ طورپر منظور کیا گیا۔اسمبلی ا قرار داد کی روشنی میں فوری طور پر1974کا نوٹیفکیشن بحال کیا جائے۔یہ بات انہوں نے گزشتہ روز اپنی رہائشگاہ پر خالد سخی کی قیادت میں بلوچستان ڈومیسائل الائنس کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جس میں خالد سخی رانا سفیر حبیب الرحمن اور دیگر شامل تھے اس موقع پر کوئٹہ پریس کلب کے سابق صدر رضا الرحمن بھی موجود تھے۔ وفد نے ایم پی اے میر اختر حسین لانگو کو بتایا کہ ہم جعلی ڈومیسائل کی حمایت کرتے ہیں اور نہ ہی جعلی ڈومیسائل ہولڈرز سے کوئی رعایت ہونی چاہئے لیکن اس کی آڑمیں صدیوں سے آباد اقوام کے بنیادی حقوق سلب نہیں ہونے چاہئیں۔ جس پر میر اختر حسین لانگوکا کہنا تھا کہ بلوچستان میں صدیوں سے آباد مختلف اقوام جن میں بلوچ پشتون ہزارہ، پنجابی، اردو سندھی، سرائیگی اور ہندکو زبانیں بولنے والوں کیلئے آباد کار کی اصطلاح استعمال کی جاتی رہی ہے جبکہ ان کے آبا اجداد اسی سرزمین میں مدفون ہیں اور ان کی دیگر مقامی قبائل سے رشتہ دایاں بھی ہیں اس کے علاوہ صوبے کے ہر شعبہ میں ان کی نمائندگی اور گراں قدر خدمات بھی ہیں بلوچستان میں صدیوں سے رہنے والے اقوام کو غیر مقامی بلوچستان کی قبائلی روایات کے منافی ہے انہوں نے کہا کہ1974میں حکومت بلوچستان کے محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی کے نوٹیفکیشن کے تحت بلوچستان میں بسنے والے غیر مقامی اقوام کو مقامی قرار دیا گیا تھا تاحال اس پر تقریبا 49 سال گزرنے کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا ہے۔اخترحسین لانگو نے کہا کہ ڈومیسائل کے اجرا کا طریقہ کار یہ ہے جو شخص تین سے چھ ماہ تک صوبہ میں رہا ہو اسے ڈومیسائل مل سکتا ہے لیکن اس کی آڑ میں ہزاروں لوگوں نے جعلی لوکل اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹس بنوا کر صوبے کے نوجوانوں کی حق تلفی کی انہوں نے کہاکہ جعلسازوں سے کوئی رعایت نہیں ہونی چاہئے لیکن اس کی ا?ڑ میں صوبے میں صدیوں سے آباد اقوام کیساتھ نا انصافی بھی نہیں ہونی چاہئے ان کی نسلیں یہاں پر پیدا ہوئی اور دفن ہیں ایسے لوگ بھی ہیں جو کوئٹہ چھوڑ کرگئے مگر اپنی وصیت میں کوئٹہ میں دفن ہونے کا کہا ایسے لوگ اس دھرتی کہ وفادار ہیں انہیں سیٹلر کہنا طعنہ دینے کے مترادف ہے انہوں نے کہاکہ سیٹلر اور لوکل کی تفریق ختم ہونی چائیے ہم نے 2005 میں بھی اس حوالے سے قرار داد پیش کی تھی۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی قرار داد کی روشنی میں فوری طور پر1974کا نوٹیفکیشن بحال ہونا چاہئے۔
جعلی ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹس کی کسی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی‘ اختر حسین لانگو

ٹیگز:
اختر حسین لانگو
