کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)پشتونخواملی عوامی پارٹی ملک میں حقیقی وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام کے قیام، جمہوریت کے استحکام، پارلیمنٹ کی خودمختیاری، آئین کی بالادستی، جمہور کی حکمرانی، اظہار رائے کی آزادی، آزاد عدلیہ اور میڈیا کیلئے اپنی جدوجہد کو مزید منظم کریگی۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخواملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام ہزار گنجی کوئٹہ میں شائستہ کلیوال علاقائی یونٹ، میوند خان علاقائی یونٹ اور عمر کلی شالکوٹ علاقائی یونٹ کے علاقائی کانفرنسز کے موقع پر پشتونخوامیپ کے مرکزی ڈپٹی چیئرمین عبدالرؤ ف لالا، صوبائی نائب صدر مجید خان اچکزئی، صوبائی سیکرٹری کبیر افغان، صوبائی ایگزیکٹوز منان خان بڑیچ، حاجی صورت خان کاکڑ، نظام عسکر، حضرت عمر اچکزئی، ملک عمر کاکڑ، سردار ادریس خان بڑیچ، حبیب الرحمن بازئی، ضلعی معاونین جمشید خان دوتانی، ولی بریالی، ماسٹر خان محمد، عبدالخالق کاکڑ اور عبدالخالق بڑیچ نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک شدید سیاسی، معاشی اور آئینی بحران سے دوچار ہے، جس کی بنیادی وجہ ملک میں عوام کے منتخب جمہوری حکومتوں کے مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنے، غیر جمہوری قوتوں کی جانب سے غیر حقیقی حکومتوں کو مسلط کرنے، ملک میں پارلیمنٹ کی خودمختاری سے انکار کرنے، اظہار رائے کی آزادی کو تسلیم نہ کرنے، جمہور کے حقوق پر آمریتوں کی شکل میں ڈاکہ ڈالنے، مصنوعی اور خود ساختہ، نام نہاد، سیاسی پارٹیوں کی تشکیل نے موجودہ صورتحال کو جنم دیا ہے، جس کی نشاندہی پشتونخوامیپ اور محترم محمودخان اچکزئی طویل عرصے سے کرتے آرہے ہیں اور ریاست کے تمام سٹیک ہوؒلڈرز کو بارہا خبردار کیا کہ ملک میں غیر جمہوری پالیسیوں، پارلیمنٹ کے بغیر داخلہ وخارجہ پالیسیوں کی تشکیل،قوموں کے حقیقی،سیاسی، معاشی، سماجی، ثقافتی، جمہوری حقوق سے انکار سے ملک تباہی سے دوچار ہوجائیگا۔ انہوں نے کہا کہ محترم محمود خان اچکزئی کا بیانیہ اس وقت ملک کے کروڑوں عوام کا سیاسی، جمہوری بیانیہ بن چکا ہے، اور آج ہر طرف سے سیاست میں غیر جمہوری قوتوں کی مداخلت کیخلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بولان سے چترال تک متحدہ پشتون صوبہ پشتونخوامیپ کا بنیادی ہد ف ہے جس کیلئے پارٹی کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریگی۔ انہوں نے کہا کہ آج کوئٹہ شہر کے لاکھوں عوام شدید مسائل سے دو چار ہیں، ایک بار پھر کوئٹہ کے اکثر علاقوں پشتون آباد، شالدرہ، پشتون درہ، سرکی روڈ، سرکی کلاں، خروٹ آباد، پشتون باغ، نواں کلی، شیخان، سریاب، سیٹلائٹ ٹاؤن ودیگر علاقوں میں گیس کی پریشر میں کمی اور لوڈشیڈنگ نے گھریلو صارفین کو شدید اذیت ناک صورتحال سے دوچار کیا ہے، پشتونخواملی عوامی پارٹی نے اس سے پہلے بھی اس اہم مسئلے پر عوام کی تائید وحمایت سے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا اگر سوئی سدرن گیس کمپنی کے انتظامیہ اور حکام نے موجودہ اذیت ناک صورتحال کا خاتمہ نہیں کیا اور گیس پریشر میں کمی کو ختم نہ کیا، گیس کی لوڈشیڈنگ سے عوام کو نجات نہ دلائی گئی تو پشتونخوامیپ کے ایک بار پھر سخت احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں اس وقت درجنوں ٹیوب ویلز کی بجلی کاٹ دی گئی ہے، لاکھوں عوام پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں اور ٹینکرمافیا کے رحم وکرم پر ہے۔ محکمہ واسا اور پی ایچ ای کی انتظامیہ وافیسران عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی ممکن بنانے کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھا رہے ہیں۔ ہم محکمہ واسا اور پی ایچ ای کے انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ عوام کو احتجاج پر مجبور نہ کریں اور فوری طور پر تمام ٹیوب ویلز کی بجلی بحال کرکے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کوئٹہ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں اضافہ کردیا گیا ہے اور مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے، جس سے عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں بدامنی اور امن وامان کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے کوئٹہ کے مختلف علاقوں پشتون آباد، سریاب، تختانی بائی پاس، مغربی پائی پاس، نواں کلی، عالمو، سرکی روڈاور دیگرعلاقوں میں سرعام چوریوں اور ڈکیتیوں کا سلسلسہ جاری ہے گزشتہ رات پشتون آباد عثمان کلاں کے علاقے میں گھروں سے موٹر سائیکل اور بھیر بکریاں چوری کی گئی، راہ چلتے شہریوں کو لوٹا جارہا ہے ان سے موبائل اور نقدی چھینی جارہی ہے، مختلف علاقوں میں مختلف سماج دشمن اور جرائم پیشہ عناصر کے گروہ سرگرم ہیں جس کی وجہ سے عوام سخت عدم تحفظ کا شکار ہوچکے ہیں۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی پولیس کی اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فوری طور پر کوئٹہ شہر میں امن وامان کو مستحکم کرنے اور بدامنی کے خاتمے کیلئے بھرپور اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ایک بار پھر ایگل فورس بازاروں اور شہر کے مضافات میں عوام کو تنگ کرنے، رشوت طلب کرنے کے عوام دشمن اقدامات کے مرتکب ہورہی ہے اور مختلف چوکوں پر رات گئے موٹر سائیکل سواریوں بالخصوص طلباء، ملازمین، مزدوروں اور عام عوام کو بیجا طور پر تنگ کرنے سے عوام میں سخت غصہ پایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نادرا نے ایک بار پھر عوام کو تنگ کرنا شروع کردیا ہے، نادرا دفاتر میں عوام کو مختلف طریقوں سے تنگ کرنے اور مختلف وغیر ضروری شرائط پیش کرنے، شناختی کارڈ، بے فارم کیلئے نادرا حکام کے عدم تعاون اور بعض آفیسران واہلکاران کی من مانیوں نے اس ادارے پر عوام کا اعتماد ایک بار متزلزل کردیا ہے، پشتونخوامیپ نادرا حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ تمام دفاتر میں اپنے آفیسران واہلکاروں کو پابند کریں کہ وہ عوام کو غیر ضروری شرائط کے ذریعے تنگ کرنے کا سلسلہ ترک کرے۔ انہوں نے کہا کہ مارچ آدھے سے زیادہ گزر چکاہے سکولوں میں بچوں کے داخلوں کیلئے غیر ضروری شرائط لاگو کی گئی ہے جس میں بے فارم، برتھ سرٹیفکیٹ، شناختی کارڈ وغیرہ نے والدین کو شدید ذہنی کوفت میں مبتلا کردیا ہے اور ہزاروں بچے ان شرائط کی وجہ اب تک سکولوں میں داخلوں سے محروم ہیں، پشتونخواملی عوامی پارٹی کے ایک وفد نے سیکرٹری تعلیم سے اس حوالے سے ملاقات کی اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا لیکن اب تک یہ تعلیم دشمن شرائط ختم نہیں کیئے گئے۔ لہذٰا فوری طور پر ان شرائط کو ختم کرکے بچوں کا سکولوں میں داخلوں کا سلسلہ بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک سکولوں میں اور مختلف اضلاع میں درسی کتب کی فراہمی کا سلسلہ نہایت سست روی کا شکار ہے اب تک چالیس فیصد سکولوں کو کتابوں کی فراہمی کی گئی ہے اور سکولوں وطلباء کی بڑی تعداد کتابوں سے محروم ہیں جس سے ہزاروں طلباء وطالبات کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے اور ان کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہورہا ہے۔ محکمہ تعلیم کے حکام فوری طور پر اس بنیادی مسئلے کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ خانہ ومردم شماری کسی بھی معاشرے کی تعمیر وترقی میں بنیادی کردار اد کرتی ہے اور اسی کی بنیاد پر ریاست وسائل کی تقسیم کا فارمولا طے کرتی ہے اب یہ عوام کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی بہترمستقبل اور ان کے حقوق کیلئے مردم شماری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
ملک میں حقیقی وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام کے قیام کیلئے جدوجہد کررہے ہیں، پشتونخوامیپ

ٹیگز:
پشتونخوامیپ
