کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینیٹر (ر) امان اللہ کنرانی نے لاہور میں پروفیشنل لائرز گروپ کے اجلاس میں شرکت کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس اور چند صاحبان کو عدلیہ کا درجہ دے کر انکی عدالتی تکریم نہیں کرائی جاسکتی جنہوں نے حالیہ دنوں میں عدالت عظمی کو تقسیم کرکے چند من پسند جج صاحبان پر مشتمل بنچ بناکر فیصلہ صادر کرنا اور اس کو عدالتی فیصلہ کا درجہ دینے کا تقاضا و تسلیم کرانا آئین کے روح کے منافی ہے پہلے عدلیہ بلا امتیاز منصفانہ و شفاف بنچ تشکیل دے مقدمات کی ترجیحات کا تعین کرے و عدلیہ کے اندر ہائی کورٹ و سپریم کورٹ کے اندر میرٹ و سینارٹی کے اصول کو ملحوظ رکھے تب اس کو عدالتی فیصلہ و نظیر مانا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت محض 3 یا 5 مخصوص ججوں کا نام نہیں بلکہ پورے ادارے کا نام عدلیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں عدلیہ کی توضیح و تشریح کے اندر ہائی و سپریم کورٹ کی تشکیل چیف جسٹس و ججز سے مشروط ہے چیف جسٹس کے بغیر ججز نہیں اور ججز کے بغیر چیف جسٹس کی حیثیت نہیں اس لئے آئین کے تحت مساویانہ طور پر مقدمات کی شنواء اور یکساں طور پر بنچز کی تشکیل نہ ہو اس وقت تک سپریم کورٹ کا ہر فیصلہ متنازعہ رہے گا چاہے آئین کے نام پر پنجاب و خیبر پختون خواہ میں 90 دن کے الیکشن کا معاملہ ہو یا آئین سے ماورا منتخب اراکین کے ووٹ کو گنتی سے باہر رکھنے کی بات ہو یا متاثرہ فریق کے موقف کو سنے بغیر پنجاب اسمبلی کے انتخابات کرانا ہو یا گورنر کے آئینی اختیار مداخلت یا وزیراعلی کے انتخاب میں دنگل کی پزیرائی ہو یہ سب عدلیہ کی جانبداری و ایک فریق کو فائدہ پہچانے کے زمرے میں آتا ہے آئین کے آرٹیکل 4,10A,25 کے منافی یکساں سلوک کو نظرانداز کرنے اور امتیازی سلوک کا باعث ہے جس کی وجہ سے عدلیہ کی تکریم کرانے کی بات سے قبل عدلیہ کو آئین کے مطابق تمام جج صاحبان کو یکساں مواقع دئیے بغیراور سیاسی و پالیسی و آئینی امور کی توضیح و تشریح کے روایتی طور پر بڑے بنچ کی تشکیل کو بالائے طاق رکھنا بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے لہذا وکلاء نیایسے گروہی و فرمائشی فیصلوں کو نہ پہلے تسلیم کیا ہے نہ آئندہ ایسے فیصلوں و ججوں کے سامنے جھکیں گے۔
عدالت محض 3 یا 5 مخصوص ججوں کا نام نہیں بلکہ پورے ادارے کا نام عدلیہ ہے ، امان اللہ کنرانی

ٹیگز:
امان اللہ کنرانی
