کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہاہے کہ پاکستان میں حالات کھڑے نہیں بلکہ لیٹے ہوئے ہیں،پاکستان ایک کثیر القومی ریاست ہے یہاں سیاسی جماعتوں یا حزب اختلاف وحکومت کی بجائے قوموں بلوچ،پشتون،سندھی،پنجابی کے درمیان گرینڈ ڈائیلاگ ہوناچاہیے،دھمکیوں سے متعلق میرعبدالقدوس بزنجو سے پوچھاجاناچاہیے جب نئی نئی جماعتیں ڈھائی ڈھائی گھنٹوں میں بنتی ہیں یہی جماعتیں دھمکیوں کی بنا پر بنتے ہیں،آزادی کی تحریک چلانے والے ہم جیسے بے اختیار لوگوں کے ساتھ بات نہیں کرینگے بلکہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے ڈائریکٹ بات چیت کرناچاہتے ہیں، میرعبدالقدوس بزنجو اس سے پہلے اس کرسی پر برجمان لوگوں سے ہمارے ساتھ نرم رویہ رکھے ہوئے ہیں ہمارے لوگوں کام ہورہے ہیں ہمارے ترقیاتی کاموں میں مداخلت نہیں ہورہا اس سے قبل جو لوگ براجمان تھے انہوں نے ہمارے ترقیاتی کام بند کئے ہوئے تھے آج کل نسوار بیچنا بھی سیاست جیساہے کوئی ایک نسوار والا نہیں،دس،دس نسوار کی دکانیں ہیں کوئی پشاوری تو کوئی بلوچی اور کوئی کندہاری نسوار بیچتاہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہاکہ بلوچستان فیڈریشن کی اکائی ہے صوبائی سیاست کی بجائے ریاست پاکستان کے سیاست کی بات کی جائیں ملکی حالات کھڑے نہیں بلکہ لیٹے ہوئے ہیں،میں ہمیشہ سے کہتاآرہاہوں کہ پاکستان ایک کثیر القومی ریاست ہے یہاں اقوام آبادہے جن کی اپنی تاریخ،زمین اور آسمان جو اللہ کا دیابڑا نعمت ہے،کہاجاتاہے کہ سیاسی جماعتوں،حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان گرینڈڈائیلاگ ہوں لیکن میں کہتاہوں کہ ایک گرینڈ ڈائیلاگ یہاں آباد اقوام پنجابی،بلوچ،پشتون اور سندھیوں کے درمیان ہوں وہ اس ریاست میں کس قسم کا اسٹریکچرچاہتے ہیں تاکہ سب مطمئن ہوں موجودہ حالات اور سسٹم سے کوئی بھی مطمئن نہیں،سندھی،بلوچ، پشتونوں کے حالات دیکھیں پنجابی قومیت بھی نظر آرہی ہے انہوں نے کہاکہ میں قوم پرست نہیں بلکہ حق پرست ہوں جو ہمارا حق ہے وہ ہمیں ملنا چاہیے۔اس وقت ہماری جماعت مرکزی حکومت کا حصہ ہے یہاں بھی ہماری جماعت نے میرعبدالقدوس بزنجو کو سپورٹ کیااس وقت میں جمعیت علماء اسلام میں شامل نہیں ہوا تھا اس لئے میں نے میرعبدالقدوس بزنجو کو سپورٹ نہیں کیاہے،میں سامنے واضح کیاکہ میں آپ کو سپورٹ نہیں کرتا، انہوں نے کہاکہ میرعبدالقدوس بزنجو اس سے پہلے اس کرسی پر برجمان لوگوں سے ہمارے ساتھ نرم رویہ رکھے ہوئے ہیں ہمارے لوگوں کام ہورہے ہیں ہمارے ترقیاتی کاموں میں مداخلت نہیں ہورہا اس سے قبل جو لوگ براجمان تھے انہوں نے ہمارے ترقیاتی کام بند کئے ہوئے تھے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ دھمکیوں سے متعلق میرعبدالقدوس بزنجو سے پوچھاجاناچاہیے جب نئی نئی جماعتیں ڈھائی ڈھائی گھنٹوں میں بنتی ہیں یہی جماعتیں دھمکیوں کی بنا پر بنتے ہیں،انہوں نے کہاکہ ترقیاتی عمل،حلقوں میں ارکان اسمبلی کے فنڈز کی حد تک میرعبدالقدوس بزنجو سے مطمئن ہوں البتہ صوبے کے وزیراعلیٰ اور وزیراعظم تک کسی بھی وزیراعلیٰ اور وزیراعظم سے مطمئن نہیں ہوں پاکستان میں جاری شورش بات چیت کے ذریعے حل ہوگایہ طاقت کے ذریعے حل نہیں ہوتا دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں نے طاقت آزمائی کی ہے لیکن کچھ حاصل نہ ہوسکا،اگرمیں بات کرتاہوں بلوچ جو آج آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں وہ ہم جیسے لوگوں کے ساتھ بات نہیں کرناچاہتے کیونکہ ہم بے اختیار ہیں وہ ڈائریکٹ فوج کے ساتھ بات کرناچاہتے ہیں جن کے پاس طاقت ہے۔میں نے واضح کیاہے کہ میں ریکوڈک معاہدے کا حصہ نہیں ہوں وہ معدنیات جودنیا میں بہت کم پائے جاتے ہیں ان کا اب تک معاہدے میں کوئی ذکر نہیں معاہدہ اب بھی خفیہ رکھاجارہاہے معاہدہ اب تک دیکھا بھی نہیں سچ بات ان کو پسند نہیں آتا ان کو چمچہ گیری پسند ہے،انہوں نے کہاکہ میں میڈیاکے ساتھ زیادہ انٹریکٹ نہیں کرتا بلوچستان کاسیاسی موسم ٹھیک نہیں،میں فیڈریشن کی بات کرتاہوں بلوچ بھائی آزادی کی بات کرتے ہیں جبکہ اسٹیبلشمنٹ زورزبردستی کی بات کرتے ہیں ایک طرف بندوق دوسری طرف بھی بندوق اور بیچ میں ہم جیسے نہتے لوگ پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں،اقتدار کالالچ سب کو ہے ہمارے ہمسایہ میں بھارت ہے وہاں کبھی بھی فوجی مداخلت نہیں رہی آج امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کہتاہے کہ پاکستان ہمارااسٹریٹجک پارٹنر اور بھارت سپر پاور ہے،انہوں نے کہاکہ آج کل نسوار بیچنا بھی سیاست سے ہوگا ایک نسوار والا نہیں بلکہ 10دکانیں ہے کوئی پشاوری نسوار بیچتاہے کوئی بلوچی تو کوئی کندہاری نسوار بیچتاہے سیاسی سوچ رکھناہوگاکہ نسوار کیسے بکیں،میں پرامن سیاسی جدوجہد پریقین رکھتاہوں تمام سیاسی لوگوں کوکہتاہے کہ پارلیمنٹ سے لیکر طلباء یونین کی سیاست پرامن طریقے سے ہونی چاہیے۔
پاکستان میں حالات کھڑے نہیں بلکہ لیٹے ہوئے ہیں،نواب رئیسانی

ٹیگز:
نواب رئیسانی
