کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)ایم ڈی کیٹ طلباء وطالبات بلوچستان کے سید محمد،عبدالحنان،سید یاسر آغا،عمیرہ خان چھلگری ودیگر نے کہاہے کہ بی ایم سی پراسپکٹس سال 2022-23کے مطابق ہمارا کیٹریا میرٹ رکھا جائے اور پرانی لسٹیں بحال کیا جائے تاکہ ہمارے مستقبل داؤ پرلگنے سے بچا یا جاسکے اور غریب طلباء وطالبات کا وقت اور سال ضائع نہ ہوں۔کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کاکہناتھاکہ بی ایم سی پرسپکٹس کے مطابق جو کہ صوبائی کابینہ حکومت بلوچستان کی نہ صرف منظور شدہ ہے بلکہ پی ایم سی سے بھی منظور شدہ ہے وہ طلباء وطلابات جو تعلیمی سال 2022-23میں داخلہ لینے کے خواہشمند تھے ان پر مندرجہ ذیل رول لاگو ہوں گے جیسا کہ اہلیت کے مطابق ایم ڈی کیٹ 35اور ایف ایس سی ایلکٹیو 65فیصد میرٹ کے فارمولا کے مطابق ایم ڈی کیٹ 50فیصد اور ایف ایس سی الیکٹیو 50فیصد ہیں اس پراسپیکٹس میں موجود تمام قوانین وضوابط حکومت بلوچستان کے صوبائی کابینہ سے منظور شدہ ہے پچھلے سال بھی بالکل یہی طریقہ کار استعمال کیا گیا تھا داخلہ فورم کرتے وقت طلباء وطالبات نے کالج کے کلرک اسٹاف سے منڈرجہ ب الا تمام قوانین وضوابط کی تحصحیح کی تھی داخلہ لیتے وقت وہ طلباء و طالبات جنہوں نے سال 2021کے ایم ڈی کیٹ پر اپلائی کرنی تھی ان سب کو ایک علیحدہ فارمولا دیا گیا تھا اس کے بعد بی ایم سی کی جانب سے دو مرتبہ میرٹ لسٹ جاری کیا تھا انہی دو میرٹ لسٹوں میں ہر ایک صفحے کے آخر میں بی ایم سی کی جانب سے یہ نوٹ لکھا گیا تھا کہ داخلہ پالیسی کے مطابق وہ تمام طلباء و طالبات ایم ڈی کیٹ 2021کی بنیاد پر اپلائی کررہے ہیں ان کے لئے صرف ایم ڈی کیٹ 50فیصد اور اختیار ی50الیکٹیو فیصد ایف سی ایس میں ش مار ہونگے30دسمبر 2022کے تمام طلباء وطالبات کی انٹر ویو لی گئی تھی 8جنوری 2023حافظ قرآن اور معذور طلباء وطالبات کی انٹر ویو لی گئی تھی لیکن ان سب کے باوجود آخری وقت میں پی ایم سی کے حکم پر تمام کارروائی کو دوبارہ نئے قوانین وضوابط کے تحت از سر نو شروع کردیا گیا اور پچھلے تمام لسٹوں کو ختم کردیا گیا حالانکہ پی ایم سی ایکٹ 2020کے مطابق ایم ڈی کیٹ کے ترمیم 18اور پیرانمبر 3کے تحت تمام سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلہ سختی سے میرٹ کی بنیاد پر صوبائی حکومت کی پالیسی کے تحت کرنی ہوگی لیکن اس قانون کی خلاف ورزی کی گئی اور حکومت بلوچستان کے صوبائی کابینہ کے پالیسی کے مطابق بنائے گئے پراسپکٹس کے خلاف ایک نیا قانون بنا یا گیا یہ نیا قانون پی ایم سی کے بھیجے گئے خط کے مطابق بنا یاگیا حالانکہ اس میں پی ایم سی کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہییقانون کے مطابق ایم ڈی کیٹ 2021میں پاسنگ مارکس 65فیصد تھے جبکہ 2022میں ایم بی بی ایس 65فیصد اور بی ڈی ایس 45فیصد ہیں ایف ایس سی 60فیصد مارک ہیں کیٹر یا میرٹ میں ایم ڈی کیٹ 50فیصد اور ایف سی ایس 40فیصد اور میٹرک کے 10فیصد ہیں وہ طالب علم جنہوں نے سال 2021میں ایف ایس سی کی ہو ان کے لئے صرف اختیاری مضامین کے نمبر شمار ہونگے حالانکہ بی ایم سی کے پراسپکٹس کے مطابق اگر مزید کوئی فیصلہ پی ایم سی/پی ایم ڈی سی کی جانب سے کیا گیا ہے تو داخلے کے عمل کے دوران تو ان کی پابندی کی جائیگی جن میں کیٹریا میرٹ موجود نہیں اور صرف میڈکیٹ الیگ بیلٹی اور ایف ایس سی شامل ہیں بی ایم سی کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بی ایم سی پراسپکٹس سال 2022-23کے مطابق ہمارا کیٹریا میرٹ رکھا جائے اور پرانی لسٹیں بحال کیا جائے تاکہ ہمارے مستقبل داؤ پرلگنے سے بچا یا جاسکے اور غریب طلباء وطالبات کا وقت اور سال ضائع نہ ہوں کیونکہ ہم بلوچستان کے مختلف پسماندہ علاقوں سے آکر یہاں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے درپدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں جبکہ د وسری جانب بی ایم سی کی جانب سے آئے روز غریب طلباء وطالبات پر نئے رولز لاگو کرتے ہیں جو کہ قابل مذمت اقدام ہے ہم اس طرح آئے روز نئے رولز لاگو کرنے کی شدید مخالفت کرتے ہیں حکومت بلوچستان سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر ہمارے مطالبات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا تو مجبور ہوکر سڑکوں پر نکل آئیں گے اور ریڈ زون کا گھیراؤ کرینگے جس کی تمام تر ذمہ داری بی ایم سی حکام پر عائد ہوگی ہم سڑکوں پر نہیں آنا چاہتے ہیں اور نہ سڑکوں پر نکلنا طلباء وطالبات کا پیشہ ہے لیکن بی ایم سی کی ناروا رویہ کی وجہ سے اس طرح اقدامات اٹھانے پر مجبور ہورہے ہیں۔
بی ایم سی پراسپکٹس سال 2022-23کے مطابق ہمارا کیٹریا میرٹ رکھا جائے،ایم ڈی کیٹ طلباء

ٹیگز:
پی ایم سی
