کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ اور رکن صوبائی اسمبلی پبلک اکانٹس کمیٹی کے چیئرمین اختر حسین لانگو نے پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی سابق صوبائی وزیر بابو رحیم مینگل کے گھر پر سادہ وردی میں ملبوس اہلکاروں کی جانب سے دیوار پلانگ کر چھاپہ مار کر چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی جی پولیس اور حکومت سمیت ادارے تا حال اس کارروائی کے حوالے سے تحقیقات کرکے حقائق سامنے نہیں لائے اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دیکر تحقیقات کرکے حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں بصورت دیگر جماعت پارلیمنٹ سمیت ہر فورم پر آواز بلند کرتے ہوئے احتجاج کرے گی جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کو کوئٹہ پریس کلب میں ٹکری سفر خان رند کی اپنے عزیز و اقارب ساتھیوں سمیت بی این پی میں شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی شکیلہ نوید دہوار، غلام نبی مری، موسی جان بلوچ، جمال لانگو، شمائلہ اسماعیل سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ ملک عبدالولی کاکڑ نے ٹکری سفر خان رند کو جماعت میں شامل ہونے پر مبارک باد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ جماعت کی مضبوطی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ آج صوبے کے طول وارض سے لوگ جوق درجوق پارٹی میں شامل ہورہے ہیں جس کا واضح ثبوت بی این پی کی صوبے کے حقیقی حقوق کے حصول اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے جدوجہد شامل ہے اور مرحوم بانی رہنماسردار عطااللہ مینگل کے نظریات اور مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے شامل ہوکر پارٹی کی جدوجہد میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ بی این پی صوبے کی حقیقی وارث ہے انہوں نے گزشتہ چند روز قبل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی سابق صوبائی وزیر بابو رحیم مینگل کے گھر پر آدھی رات کو سادہ وردی میں ملبوس منہ ڈھانپ کر سیڑھی کے ذریعے گھر میں گھسنے کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم قانون سے بالاتر نہیں لیکن اس طرح کے غیر قانونی اقدامات کے مخالف ہیں جس طرح سادہ وردی میں نقاب پوشوں کی طرح دیواریں پھلانگ کر گھر میں گھس کر چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا ہے جیسے وہ کوئی دہشت گرد یا کسی غیر قانونی اقدامات کرنے والے کا گھر ہے کوئٹہ میں ڈاکو راج ہے اس واقعہ کی اعلی سطحی تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل دیکر حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں ہمارے پارلیمنٹرین نے وزیر اعلی بلوچستان، آئی جی پولیس اور ایس ایس پی آپریشن سے ملاقات کی اور انہیں اس طرح کی کارروائی سے آگاہ کیا اور انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ تحقیقات کرکے حقائق سے آگاہ کیا جائے گا تا حال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اس سے قبل پارٹی کے ضلع نوشکی کے رہنمابہادر خان مینگل کے ساتھ روڈ پر واقعہ پیش آیا تھا اب ہمارے معزز رہنماں کے گھروں میں گھس رہے ہیں جو کسی صورت بھی قبول نہیں اس موقع پر اختر حسین لانگو نے کہا کہ میں بابو رحیم مینگل، ملک نصیر احمد شاہوانی، احمد نواز بلوچ، حمل کلمتی وزیر اعلی سے ملاقات کرکے گھر گئے چند گھنٹوں بعد یہ واقعہ پیش آیا اگر انہیں بابو رحیم مینگل کے پی ایس سے کوئی معلومات لینی تھی تو وہ بابو رحیم سے رابطہ کرتے وہ بندہ ان کے حوالے کرتے ہمیں تفتیش پر اعتراض نہیں بلکہ اس طرح کے اقدامات پر اعتراض ضرور ہے وزیر اعلی، آئی جی پولیس کے ساتھ میں اور پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل واجہ جہانزیب بلوچ نے ملاقات کی اور صورتحال سے آگاہ کیا اور انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ تحقیقات کرکے حقائق سے آگاہ کیا جائے گا تا حال کوئی جواب نہیں ملا۔ حالات کو جان بوجھ کر خراب کیاجارہا ہ اور بی این پی کی جمہوری اور سیاسی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ ہماری جماعت آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی کہ جس طرح چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے اس کے خلاف ہم احتجاج کریں گے پارلیمنٹ سمیت ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔ 2008-09میں بھی حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی جس میں ناکامی ہوئی ایک سوال کے جواب میں ملک عبدالولی کاکڑنے کہا کہ جماعت کو نقصان پہنچاکر حالات خراب کرنے کی کوشش کو ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنمامعروف قانون دان لطیف آفریدی ایڈووکیٹ کے بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور پسماندگان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور توفیق دے۔
بابو رحیم مینگل کے گھرپرچھاپے میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے،ٹکری سفر خان رند جماعت کی مضبوطی میں اپنا کردار ادا کریں گے،بی این پی

ٹیگز:
بی این پی
