کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان بار کونسل کے جاری ایک بیان میں گزشتہ دنوں جھل مگسی کے عدالت میں قبائلی رہنما جعفر مگسی کی جانب سے سینئر وکیل محمد حنیف مگسی کے ساتھ بدکلامی توہین آمیز رویہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے چیف جسٹس بلوچستان سے ان کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔بیان میں کہا کہ بلوچستان کے وکلاء نے ہمیشہ بلوچستان کے قبائلی رسم و رواج کے مطابق سب کا عزت کیا انہیں بار روم میں باعزت کے ساتھ بٹھایا لیکن گزشتہ دنوں قبائلی رہنما جعفر مگسی کا رویہ انتہائی غیر مناسب اور ناقابل برداشت ہے۔بیان میں کہا کہ بلوچستان کے ہر وکیل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مستغیث کی وکیل بنیں یہ ملزموں کی لیکن آج تک کسی نے ہمارے وکالت پر اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو حق ہے کہ وہ ہمارے وکیل کے اوپر اعتراض کرے۔بیان میں کہا کہ مذکورہ قبائلی رہنما اسلحہ سے لیس عدالت کے احاطے میں آئے اور وکیل محمد حنیف مگسی کے ساتھ ان کا رویہ انتہائی غیر مناسب تھا ان جیسے قبائلی رہنماؤں کے رویے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا وکیل کے ساتھ یہی رویہ ہے تو عام آدمی کے ساتھ ان کا رویہ کیا ہوگا بیان میں کہا کہ وکیل کے ساتھ عدالت کے احاطے میں قبائلی رہنما کا رویہ توہین عدالت کے مرتکب ہے جس کا چیف جسٹس آف بلوچستان اور چیف جسٹس آف پاکستان کو نوٹس لینا چاہیے توہین عدالت صرف جج کے خلاف نہیں بلکہ عدالت کے احاطے میں وکیل کے ساتھ بدتمیزی بھی توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔بیان میں کہا کہ قبائلی رہنما جعفر مگسی نے اگر وکیل رہنما محمد حنیف مگسی سے معافی نہیں مانگی تو ان بلوچستان کے تمام بار رومز میں ان کے داخلے پر پابندی عائد ہوگی۔بیان میں کہا کہ اگر آئندہ قبائلی رہنما جعفر مگسی نے اپنا رویہ نہیں بدلا اور وکیل کے ساتھ بدتمیزی اور الجھنے کی کوشش کی تو بلوچستان بھر سے وکلاء عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے اس رویے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ قبائلی رہنما وکیل اور جج پر دباو ڈال کر اپنا من پسند فیصلہ لینا چاہتے ہیں۔
وکیل کے ساتھ عدالت کے احاطے میں قبائلی رہنما کا رویہ توہین عدالت کے مرتکب ہے،بلوچستان بار کونسل

ٹیگز:
بلوچستان
