کراچی(ڈیلی گرین گوادر) نیشنل پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس مرکزی صدر سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی صدارت میں کراچی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام قومی وحدتوں کے تنظیمی و سیاسی رپورٹ پیش کی گئیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ملک اس وقت شدید سیاسی، معاشی اور انتظامی بحران میں مبتلا ہے۔ پی ڈی ایم کی حکومت معاشی استحکام پیدا کرنے میں تاحال کامیاب نہیں ہوئی ہے گزشتہ حکومتوں کی ناقص معاشی پالیسیاں معاشی بدحالی کے بنیادی اسباب ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے جس کے سبب مہنگائی و بے روزگاری میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ انھوں نے کہاکہ مستحکم عوامی حکومت ملک کو اس دلدل سے نکال سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریکوڈک معاہدہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے ریکوڈک پر ہونے والی قانون سازی آئین پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف اقدام ہے۔ پاکستان ایک فیڈریشن ہے اور اس میں چار قومی وحدتیں ہیں جن کے قومی اور سیاسی حقوق ہیں پاکستان کا استحکام قومی وحدتوں کے اختیارات اور حقوق سے وابستہ ہے قوموں کے اختیارات کو محدود کرنے سے وفاق اور قومی وحدتوں کے درمیان موجود خلیج میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے پی ڈی ایم کی قیادت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے قومی کے اختیارات میں کمی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور اگر ضرورت پڑی تو سخت سیاسی موقف اپنائیں گے بلوچستان کے وسائل اور ساحل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انھوں نے بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں شاندار کامیابی پر کارکنوں اور قیادت کو مبارک باد پیش کی۔ انھوں نے کہاکہ صاف و شفاف انتخابات میں نیشنل پارٹی کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔ انھوں نے کہاکہ ملک کا استحکام مضبوط جمہوریت و سیاسی کلچر میں ہے انتخابی عمل میں ریاستی مداخلت مسائل و مشکلات کے بنیادی سبب ہیں بلوچستان کو مصنوعی و ٹیسٹ ٹیوب نمائندوں نے برباد کر کے رکھ دیا ہے زبردستی کی سیاسی پارٹیاں مسائل و مشکلات کی جڑ ہیں بلوچستان اس وقت مسائلستان بناہوا ہے امن و امان کی بگڑتی صورتحال معاشی و اقتصادی عمل میں رکاوٹ ہے بلوچستان میں حکومت عملا وجود نہیں رکھتی ہے اپوزیشن فرینڈلی ہے تمام سیاسی عمل میں حکومت و اپوزیشن ایک پیج پر ہیں تاریخ کی بدترین ترین حکومت بلوچستان میں قائم ہے جس کو بلوچستان کے قومی وسائل و اختیارات سے ذرہ برابر دلچسپی نہیں ہے۔ مرکزی کمیٹی سے مرکزی سکرٹری جنرل جان محمد بلیدی، ایوب ملک، رحمت صالح بلوچ، ڈاکٹر سرفراز، مجید ساجدی، خیربخش بلوچ، مرزا مقصود، ایوب قریشی، فداحسین دشتی، یاسمین لہڑی، شاہینہ رمضان، طاہرہ خورشید، واجہ ابوالحسن، منظور گچکی، رفیق کھوسہ، منصور بلوچ،اور دیگر رہنماوں نے بھی خطاب کیا۔ اجلاس 25 دسمبر کو دوبارہ ہوگا جس میں تنظیمی و سیاسی فیصلے کے جائیں گے۔
ریکوڈک معاہدہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے ٗڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

ٹیگز:
عبدالمالک بلوچ
