کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)وفاقی وزیر برائے مواصلات اسد محمود نے کہا ہے کہ پوسٹل سروس جو محکمہ ڈاکخانہ کا منافع بخش سروس تھا اسے فاٹف کے مطالبے پر بند کردیا گیا ہم نے اس وقت بھی یہ مطالبہ کیا تھا کہ فاٹف کے مطالبے کے سلسلے میں جو قانون سازی کی جارہی ہے اس کا ڈرافٹ ہمیں دیکھایا جائے ہم نے قانون سازی کرتے وقت اپنے ملک اور اداروں کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی قانون سازی کی حمایت نہیں کرسکتے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کوکوئٹہ میں پوسٹ مینوں کو موٹر سائیکل فراہم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون سازی کرنی ہے تو باقی اقوام بھی اس کی پابندی کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سینکڑوں ڈاکخانے بند کردیئے گئے جوکہ عوام کے مفاد اور عوام کے ضروریات کو مدنظر رکھ کر کھولی گئی تھی انہیں سروسز فراہم کررہے تھے۔ پوسٹل سروس کے اسٹاف کو چھ کروڑ نفوس پر مشتمل آبادی کے لئے قائم کیا گیا تھا وہی آرگنائزیشن اسی حجم کے ساتھ کام آج بھی کام کررہا ہے۔ چاہئے یہ تھا کہ اس سروس کو مزید وسعت دی جاتی تاکہ دور دراز کے لوگوں کو احسن طریقے سے سروسز فراہم کرتے تاکہ اس سے غریب لوگ احسن طریقے سے مستفید ہوجاتے۔ انہوں نے کہا کہ ایک خط کا لفافہ پاکستان پوسٹ 70 روپے میں پہنچارہا ہے۔ وہی لفافہ وہی مسافت پرائیویٹ کوریئر 6 سو روپے میں پہنچارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی صاحب کو پوسٹل سروسز کے بارے میں پبلسٹی کردینی چاہئے کہ پوسٹل سروسز آپ کو وہ سروس فراہم کررہا ہے جوکہ پرائیویٹ کوریئر والے نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پوسٹ کو تمام کوریئرز کو رجسٹر کے بجائے ڈیجیٹلائز کردینے چاہئے تاکہ اخراجات کم ہو اور ادارہ احسن طریقے سے اپنے خدمات سرانجام دے سکے۔ سیونگ بنک کے حوالے سے بھی پائلٹ پروجیکٹ کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت خزانہ سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ سیونگ بنک کو دوبارہ فعال کیا جائے۔ اس موقع پر ڈی جی پوسٹل سروس و دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔
ملک اور اداروں کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی قانون سازی کی حمایت نہیں کرسکتے ، وفاقی وزیر مواصلات

ٹیگز:
وفاقی وزیر مواصلات
