کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) وفاقی محتسب ریجنل آفس کوئٹہ میں پی ایم ڈی سی کے ریٹائرڈ اکاؤنٹ مینیجر خورشید انور نے درخواست دائر کی تھی کہ اس نے اپنی زندگی کے چالیس سال سے زیادہ کا عرصہ اپنے محکمے کے نام کردیا۔مگر افسوس کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اس کا محکمہ اسے اس کی پنشن دینے سے انکاری تھا۔ درخواست گزار نے سو جتن کیے مگر محکمے کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔بالآخر درخواست گزار خورشید انور وفاقی محتسب ریجنل آفس کوئٹہ تشریف لایا۔ اور اپنے محکمے کے خلاف ایک درخواست دائر کی کہ اس کا محکمہ اس کا حق یعنی اس کی پنشن دینے سے انکاری ہے۔درخواست موصول ہوتے ہی ریجنل آفس کوئٹہ کے عملے نے انکوائری کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اور انکوائری میں جب پی ایم ڈی سی کوئٹہ کے افسران جواب نہیں دے پائے تو وفاقی محتسب کے عملے نے پی ایم ڈی سی اسلام آباد سے افسران کو کوئٹہ طلب کیا اور ایک طویل انکوائری کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ درخواست گزار خورشید انور کی پینشن پر لگائے گئے محکمے کے تمام اعتراضات غلط ہیں۔ چنانچہ وفاقی محتسب نے احکامات جاری کیے کہ فوری طور پر درخواست گزار خورشیدانور اکاؤنٹ مینیجر پی ایم ڈی سی کی پینشن کے واجبات ادا کیے جائیں۔ احکامات موصول ہوتے ہی مینجنگ ڈائریکٹر پی ایم ڈی سی محمد اقبال نے درخواست گزار کی پینشن کے ایک کروڑ 32 لاکھ روپے ادا کردیئے۔ درخواست گزار چیک وصول کرنے کے لئے وفاقی محتسب کے ریجنل آفس کوئٹہ تشریف لایا۔ اور وفاقی محتسب کے عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنے لگا کہ عملے نے جتنی دلچسپی میرے کیس میں لی ایسی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ دیگر عدالتوں میں تو وکیل کا خرچہ ہی میری آدھی پنشن لے جاتا۔ مگر وفاقی محتسب کے عملے نے بغیر کسی لالچ کے صرف خدا کی رضا کی خاطر میرا کام کر دیا۔ اگر معاشرے کا ہر محکمہ اسی طرح کام کرنے لگے تو معاشرے کا سدھار ممکن ہو پائے گا۔
وفاقی محتسب کے حکم پر پی ایم ڈی سی کے ریٹائرڈ اکاؤنٹ مینیجرکوپنشن کی مد میں ایک کروڑ32 لاکھ روپے اداکردئے گئے

ٹیگز:
وفاقی محتسب
