پشاور (ڈیلی گرین گوادر) سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے مقتول صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کیلئے کینیا اور دبئی جانے والی تفتیشی ٹیم سے ثبوت عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کردیا۔ سابق وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ انکے ساتھ صحافی ارشد شریف کی لیپ ٹاپ نہیں اور جو لوگ انوسٹگیشن کے لیے گئے تھے وہ جو ثبوت لائے ہیں وہ قوم کے سامنے رکھیں۔
پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر مراد سعید کا کہنا تھا کہ ایف آئی کی طرف سے انکو ابھی تک کوئی نوٹس نہیں آیا اور جو ٹیم انوسٹگیشن کے لیے گئی تھی انکے پاس تمام سامان اور ثبوت ہیں۔پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ارشد شریف نے اپنے شہادت سے پہلے بھی ان لوگوں کے بارے میں کہا تھا اور ان کے ساتھ یو اے ای کا ویلڈ ویزہ تھا اب پوچھنا یہ ہے کہ وہ کون لوگ تھے جن کی وجہ سے ارشد شریف نے یو اے ای چھوڑا۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ارشد شریف کے جنازے سے پہلے کچھ لوگوں نے پریس کانفرنس کی . انکا کہنا تھا کہ ارشد شریف پر 16 جعلی ایف آئی آر درج کی گئی جبکہ انکو دھمکایا گیا۔مراد سعید کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان ارشد شریف کے قتل کے تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنائے اور ارشد شریف کے قاتلوں کو جلد از گرفتار کیا جائے کیونکہ حکومت کی موجودہ فیکٹ فائڈنگ کمیٹی پر نہ ارشد شریف اور نہ ہم کو کوئی اعتماد ہیں بکلہ ان کے تمام بیانیے جھوٹ پر مبنی ہیں.

