کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر وفاقی وزیر ہاؤسنگ مولانا عبدالواسع نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے جمعیت علماء اسلام کو صوبائی حکومت میں شامل ہونے کی پیش کش کو شکریہ کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے جمعیت علماء اسلام کے صوبائی حکومت میں شامل ہونے کے مطالبات پر جو پیش کش کی وہ جمعیت علماء اسلام کے شایان شان نہیں تھی ہم ایک یا دو وزراء کے ساتھ عوام کی خدمت نہیں کرسکتے،مولانا فضل الرحمن آئندہ ماہ کوئٹہ میں جلسہ عام اور گرینڈ شمولیتی پروگرام سے خطاب کریں گے جس میں نواب اسلم رئیسانی، میر ظفر زہری سمیت دیگر شخصیات پارٹی میں شامل ہونگی، جمعیت علماء اسلام فعال اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے صوبے بھر میں سیلاب زدگان کے پاس جائیگی۔یہ بات انہوں نے پیر کو جمعیت علما اسلام کے صوبائی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی مولانا کمال الدین، قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈوکیٹ، سابق صوبائی وزیر عین اللہ شمس، اراکین صوبائی اسمبلی سمیت دیگر بھی موجودتھے۔ وفاقی وزیر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان کے نصیر آباد ڈویژن کے مختلف اضلاع آج بھی سیلاب میں ڈوبے ہوئے ہیں کئی ماہ سے لوگ سڑکوں پر زندگی گزار رہے ہیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیلاب میں حکومت کا کردار اہم ہے حکومت اپنی تما م تر مصروفیات کو ترک کر کے سیلاب زدہ علاقوں کو فوری طور پر ترجیح دے اور سیلاب متاثرین کی امداد و بحالی کے لئے حکمت عملی مرتب کرے۔ انہوں نے کہا کہ تین ماہ گزرنے کے باوجود صوبائی حکومت کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے لئے کوئی موثر حکمت عملی ترتیب نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ہمیں بارہا شمولیت کی دعوت دی گئی جس پر جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی گروپ کا اجلاس بلا کر اس پر مشاورت کی گئی حکومت کے اصرار اور سیلاب زدگان کے حالات کو دیکھتے ہوئے ہم نے محسوس کیا کہ سیلاب سے متاثر عوام کی بحالی کے لئے جمعیت علماء اسلام کو صوبائی حکومت کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم سیلاب زدگان کی بحالی میں بہتر کردار ادا کرسکیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے اسلام آباد میں دو ملاقاتیں جن میں جمعیت نے انہیں حکومت میں شامل ہونے سے متعلق اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا وزیراعلیٰ نے اس وقت ہمارے مطالبات کو جائز قرار دیکر انہیں تسلیم کیا اور مشاورت کے لئے کچھ وقت مانگا ہمارے مطالبات میں جمعیت علماء اسلام کی عدددی حیثیت کے مطابق حکومت میں شمولیت، محکموں کی تقسیم، صوبے میں گڈ گورننس کا قیام، قاضی نظام کی بحالی، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں فیصلے شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں تھاکہ وزیراعلیٰ یہ اختیار رکھتے ہیں یا نہیں کہ وہ گڈگوننس میں رکاوٹ، آسامیاں فروخت کرنے والوں کو روک پائیں گے یا نہیں ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ انہوں نے کس سے مشاورت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی اجلاس ہونے کے بعد وزیراعلیٰ کی جانب سے جمعیت علماء اسلام کو شمولیت کے لئے جو پیش کش کی وہ ہمارے شایان شان نہیں تھی،وزیراعلیٰ نے چارٹر آف ڈیمانڈ کے پر عکس پیش کش کی کہ دوسری جماعتوں سے بھی مشاورت جاری ہے وہ بھی اپنا چارٹر دیں گی جس کے بعد فیصلہ ہوگا جس پر جمعیت علماء اسلام کے جواب دیا کہ ہم نے اپنا سفر کسی جماعت کے ساتھ نتھی نہیں کیا ہر جماعت اپنے مفاد میں فیصلے کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کا گزشتہ روز صوبائی مجلس عاملہ اور پارلیمانی گروپ کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں مشترکہ فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ کی پیش کش کو شکریہ کے ساتھ مسترد کرتے ہیں جمعیت علماء اسلام اپوزیشن میں رہتے ہوئے اپنا فعال کردار ادا کریگی اور بیڈ گورننس کی روک تھام کی نشاندہی کریگی ہم ایک یا دو وزراتیں رکھ کر خوشی نہیں منائیں گے جمعیت علماء اسلام نے 10سال ریکوڈک اور این ایف سی ایوارڈ جیسے فیصلوں کی سزا بھگتی ہے ہم آئندہ بھی عوام کے حقوق، ووٹ کے تقدس کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علما اسلام صوبے بھر میں تربیتی کنونشن اور سیلاب زدگان کے ساتھ حال احوال کے پروگرام منعقد کریگی،آئندہ ماہ جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کوئٹہ میں جلسہ عام اور شمولیتی پروگرام سے خطاب کریں گے جس میں سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی، سابق وزراء میر ظفر زہری، امان اللہ نوتیزئی، غلام دستگیر بادینی، اسلم عمرانی سمیت دیگر شخصیات پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گی۔ایک سوال کے جواب مہیں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کرنے کے لئے عدم اعتماد کی تحریک ضروری نہیں ہے بی این پی بھی شاید اپوزیشن کا حصہ ہے ہم نے اپنی سطح پر فیصلہ کیا ہے بلوچستان میں اپوزیشن کے نئے خطوط پر کام کر نے کے لئے سردار اختر مینگل سے بھی مشاورت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ گورنر بلوچستان کا مسئلہ وفاقی اتحادی جماعتوں کے ساتھ ملکر حل کرلیا جائیگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹرانس جینڈر بل این جی اوز کی سازش کے تحت منظور ہوا ہماری رکن نے اس وقت بھی اس کی مخالفت کی تھی جمعیت علماء اسلام ٹرانس جینڈر ترمیمی بل لائے گی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مکمل تباہ ہونے والے مکانات کی بحالی کے پانچ لاکھ جبکہ جزوی متاثرہ مکانات کی بحالی کے لئے اڑھائی لاکھ امداد کا اعلان کیا ہے،زرعی اور لائیوسٹاک نقصانات کا جائزہ اسسٹمنٹ کمیٹیاں لے رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے جمعیت کو صوبائی حکومت میں شامل ہونے کی پیش کش کو شکریہ کے ساتھ مسترد کرتے ہیں،مولانا عبدالواسع

ٹیگز:
مولانا عبدالواسع
