کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان کی متحرک سماجی تنظیموں سول سوسائٹی کے نمائندوں اور بلوچستان بار کونسل نے صوبے میں بڑھتے ہوئے گھریلو تشدد کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کی فوری داد رسی اور انصاف تک سہل و فوری رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ منگل کو یہاں جاری ایک مشترکہ بیان میں فورم فار ڈیگنیٹی انیشیٹیوز پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عظمیٰ یعقوب، عورت فاؤنڈیشن بلوچستان کے ریجنل ڈائریکٹر علاؤالدین خلجی اور بلوچستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین راحب خان بلیدی ایڈوکیٹ نے کہا کہ بلوچستان میں ڈومیسٹک وائلنس کے بڑھتے ہوئے پر تشدد واقعات معاشرے میں عدم برداشت کی عکاسی کرتے ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے اس ضمن میں حکومت کو تشدد کے خلاف رائج الوقت قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرتے ہوئے ٹھوس اقدامات اٹھانے ہونگے اور ملوث ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ہوگا تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ہوسکے،ایف ڈی آئی کی سربراہ عظمیٰ یعقوب اور عورت فاؤنڈیشن کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر علاؤ الدین خلجی نے کہا کہ ڈومیسٹک وائلنس کے واقعات کے تدارک کے لئے سنٹرل پولیس آفس میں قائم جینڈر ڈیسک کو متحرک کردار ادا کرنا ہوگا اور ایسے واقعات کو آئی جی پولیس بلوچستان بذات خود مانیٹر کرکے تشدد کی روک تھام کیلئے اپنا کردار ادا کریں،بلوچستان بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی راحب خان بلیدی نے کہا کہ ڈومیسٹک وائلنس ایک سنگین صورتحال اختیار کر رہا ہے اور ایسے واقعات میں حکومتی رٹ کمزور نظر آرہی ہے دوسری جانب انصاف کی فراہمی میں تاخیر اس طرح کے واقعات کی حوصلہ شکنی کی راہ میں رکاوٹ ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے واقعات کے متاثرین کو فوری اور سہل انصاف فراہم کیا جائے،سول سوسائٹی کی تنظیموں نے کوئٹہ میں شوہر کے ہاتھوں بیوی کے قتل اور اوستہ محمد کی سوشل ورکر نور جہاں میمن پر تشدد کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ڈومیسٹک وائلنس کے واقعات کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے، دوسری جانب کمیشن آن اسٹیٹس آف وویمن بلوچستان کی چیئرپرسن فوزیہ شاہین نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ڈومیسٹک وائلنس کے بڑھتے ہوئے واقعات واقعی لمحہ فکریہ ہیں جن کی روک تھام کیلئے اشتراکی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ نصیر آباد میں شوہر کے تشدد کا شکار بختاور کو انصاف کی فراہمی کے لئے پولیس کی مدد حاصل کی گئی اور اب اوستہ محمد کی سوشل ورکر نور جہاں میمن کے واقعہ میں بھی اے آئی جی بلوچستان پولیس سے رابطہ کیا گیا ہے جنہوں نے متاثرہ خاتون کی داد رسی کے لئے فوری اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
بلوچستان میں ڈومیسٹک وائلنس کے بڑھتے ہوئے پر تشدد واقعات معاشرے میں عدم برداشت کی عکاسی کرتے ہیں،راحب بلیدی

ٹیگز:
راحب بلیدی
