اوتھل (ڈیلی گرین گوادر) بیلہ کے نواحی علاقے میں اراضی کے تنازعے میں دو گروہوں میں ہونے والے جھگڑے میں شدید زخمی ہونے والا محمد رمضان خاصخیلی ٹراما سینٹر سول ہسپتال کراچی میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا،ورثا اور برادری کے لوگ انصاف کیلئے میت لے کر بیلہ تھانہ پہنچ گئے،اور دھرنا دیکر قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز بیلہ کے نواحی علاقے محمودانی بھٹ میں رونجھہ قبائل اور خاصخیلی قبائل کے مابین اراضی کے تنازعہ میں ہونے والے جھگڑیمیں خاصخیلی برادری کے نوجوان محمد رمضان خاصخیلی ولد پپن خاصخیلی شدید زخمی ہوگئے تھے۔جنہیں فوری طور پر سول ہسپتال بیلہ لایا گیا۔جہاں سے ابتدائی طبی امداد کے بعد ٹراما سینٹر سول ہسپتال کراچی منتقل کردیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئے۔جس سے مقتول کے ورثا اور خاصخیلی برادری کے لوگ سخت مشتعل ہوگئے اور میت کراچی سے لے کر بیلہ تھانہ پہنچے۔جہاں دھرنا دیا اور مقتول محمد رمضان خاصخیلی کے والد پپن خاصخیلی نے ملوث قاتلوں کی گرفتاری کیلئے پولیس تھانہ بیلہ میں درخواست جمع کرا دی۔خاصخیلی برادری نے رمضان خاصخیلی کے قتل پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے قتل کے اس واقع کو قابل مذمت قرار دیا ہے اور ملوث قاتلوں کی فوری گرفتاری اور ورثا کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔اس موقع پر خاصخیلی برادری کے معزز شخصیت ماسٹر منظور خاصخیلی سے مزاکرات کے بعد ورثاء میت دفنانے پر رضامند ہو گئے۔SHO بیلہ محمد اسحاق رونجھو کے مطابق کسی کے ساتھ زیادتی اور حق تلفی نہیں ہوگی۔اور قتل میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
بیلہ،لڑائی جھگڑے میں شدید زخمی ہونے والا شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا

ٹیگز:
بیلہ
