اسلام آباد (ڈیلی گرین گوادر) مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بینچ سماعت کر رہے ہیں۔
کیس کی سماعت کے آغاز پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ روسٹرم پر آگئے اور دلائل میں کہا مریم نواز کے خلاف رابرٹ ریڈلے بطور گواہ پیش ہوئے تھے، جے آئی ٹی نے رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ پر ٹرسٹ ڈیڈ کو جعلی قرار دیا۔
وکیل امجد پرویز نے بتایا کہ فائنڈنگ دی گئی کہ کیلبری فونٹ اس وقت نہیں تھا جب ٹرسٹ ڈیڈ تیار ہوئی، میں نے عدالتی معاونت کیلئے پیپر بکس تیار کی ہیں، نیب کے شواہد میں مریم نواز کی حد تک واحد چیز رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ تھی۔انہوں نے کہا کہ میں نے رابرٹ ریڈلے سے متعلق ہی دو صفحات تیار کیے ہیں۔وکیل امجد پرویز نے بتایا کہ ایک ایکسپرٹ کی رائے کو اس کیس میں بنیادی شواہد کے طور پر لیا گیا ہے، ایکسپرٹ کی رائے کبھی بھی بنیادی شہادت نہیں ہوتی، محض ایک ایکسپرٹ کی رائے پر سزا سنا دینا درست نہیں۔
وکیل کے مطابق جرح میں بتایا گیا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کی تاریخ سے قبل یہ فونٹ ڈاؤن لوڈ کرکے استعمال کیاچکا تھا، وہ خود اس بات کا اعتراف بھی کرچکا ہے کہ وہ فونٹ ایکسپرٹ بھی نہیں۔جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیے کہ پھر تو سارا ثبوت ہی ختم ہوگیا، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ اس ٹرسٹ ڈیڈ کی بنیاد پر اس خاتون نے فائدہ کیا لیا؟ کچھ بھی نہیں، کسی کا اثاثہ کبھی بھی نہیں چھپ سکتا۔امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم اس ڈاکیومنٹ کے وجود کو مانتے ہیں، مریم نواز کو اس ٹرسٹ ڈیڈ کی بنیاد پر سزا بھی نہیں دی گئی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ جو بھی فونٹ بنتا ہے وہ کہیں رجسٹر تو ہوتا ہوگا، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا کیلبری کے رجسٹر ہونے سے متعلق کوئی چیز ریکارڈ پر آئی کہ کب ہوا؟امجد پرویز ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ یہ ریکارڈ پر لانا نیب کی ذمہ داری تھی ہماری نہیں، رابرٹ ریڈلے نے خود کہا وہ اپریل 2005 میں خود یہ فونٹ استعمال کرچکے ہیں۔جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ پھر تو یہ کیس ختم ہی ہوگیا ہے، امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ ریڈلے نے جرح میں مانا کہ وہ کمپیوٹر ایکسپرٹ ہی نہیں ہے۔
جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ وہ ایکسپرٹ نہیں تو پھر اس کے شواہد ہی ختم ہو جاتے ہیں، ٹرسٹ ڈیڈ درست ہے تو اس کا اثر کیا پڑتا ہے؟امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کوئی اثر نہیں پڑتا، اس کا کوئی بھی فائدہ نہیں اٹھایا گیا، پراپرٹی اسی فیملی کی تھی،اسی میں رہنی تھی، ابھی تک اسی کو بھگت رہے ہیں۔وکیل مریم نواز نے کہا کہ میری مؤکلہ نہ کبھی وہاں رہیں نہ ہی کبھی انہیں کوئی کرایہ آیا، جبکہ پراسیکیوشن مریم نواز کو بینیفشل مالک کہہ رہی ہے۔

