اوتھل (ڈیلی گرین گوادر)سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ لسبیلہ میں شدید سیلاب کو آئے ہوئے 18 دن گزر چکے ہیں لیکن متاثرین کی بحالی کا کام سست روی کا شکار ہے اور سیلاب زدگان حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔لیکن وفاقی و صوبائی حکومتیں تساہل کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ عبد القدوس بزنجو سے امید تھی کہ وہ لسبیلہ کے سیلاب سے متاثرہ علاقے کا دورہ کریں گے۔ لیکن وہ نہیں آئے مجھے افسوس ہے کہ لسبیلہ سے منتخب صوبائی وزیر سمیت ممبران اسمبلی، ایم این اے اور سینیٹرز نے تاحال لسبیلہ کا دورہ نہیں تک نہیں کیا اور نہ ہی بلوچستان کے کسی وزیر نے اس مشکل گھڑی میں لسبیلہ کا دورہ کیا اور لوگوں کی مصیبت میں ان کے دکھوں و مشکلات کا مداوا بنے۔ جب کہ وزیر اعظم شہباز شریف بھی کراچی سے بائی روڈ ڈیڈھ گھنٹے کا سفر طے کرکے لسبیلہ آسکتے تھے۔اور PDMA کی کارکردگی بھی جس طرح ہونی چاہئے وہ نہیں ہے۔ وزیراعلی PDMA کو ہدایت کریں کہ جلد از جلد متاثرین کو سامان پہنچائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک پیغام میں کیا۔جام کمال خان نے کہا کہ لسبیلہ میں بارشوں کا سلسلہ بھی ایک ماہ سے تا حال جاری ہے۔میں ایک بار پھر میں کہنا چاہوں گا کہ کچھ دن پہلے بھی میں نے ایک پریس کانفرنس کی تھی امید کی تھی کہ شائد بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اور وفاقی وزراء کے علاوہ لسبیلہ سے منتخب ایم این اے،ایم پی اے، سینٹرز لسبیلہ کے سیلاب سے متاثرہ علاقے میں آئیں گے لیکن وہ نہیں آئے۔ جام کمال نے کہا ہے کہ لسبیلہ میں سیلاب سے تباہ کاری کو 18دن ہوچکے ہیں لیکن یہاں کے لوگ تاحال بے یارو مددگار حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ میں وزیراعلی بلوچستان قدوس بزنجو سے بھی امید رکھتا ہوں کہ وہ لسبیلہ کے متاثر علاقے اوتھل، بیلہ، لاکھڑا کا دورہ کریں اور یہاں کے لوگوں کی دلجوء کریں۔ اور جن علاقوں میں سیلاب ریلوں کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا ہے وہاں امدادی کام مزید تیز کریں ساتھ میں یہ بھی کہوں گا کہ ریلیف کا سلسلہ ہے وہ زیادہ سے زیادہ کریں اور پی ڈی ایم اے کو ہدایت کریں کہ وہ چیزوں کی خریداری میں تساہل نہ برتیں بلکہ جلد از جلد متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر سیلاب سے تباہ حال لوگوں کی مدد کریں۔سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ آج سے پھر اوتھل،بیلہ، وندر، لاکھڑا اور حب میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔جوکہ چار پانچ دن تک چل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ریلیف کا کام ہورہا ہے لیکن اس پیمانے نہیں ہورہا جس پیمانے پر تباہ کاری ہو?ی ہے یہاں لوگوں کو مدد کی زیادہ ضرورت ہے میں تمام ان ادارہ اور فلاحی تنظموں کا شکر گزار ہوں جو لسبیلہ میں ہہترین طریقے سے کام کررہی ہیں۔ امید کرتا ہوں کہ کہ فلاحی تنظیمیں بھی لوگوں کی مکمل بحالی تک کام کرتی رہیں گی۔ اور مزید تنظیمیں بھی یہاں آکر کام کریں گی۔کیوں کہ سیلاب سے تباہ کاری ہماری توقع سے بہت زیادہ ہے۔حکومتی ادارے اور فلاحی تنظیمیں مل کر سیلاب زدگان کو ریلیف دے سکتی ہیں۔
حکومتی ادارے اور فلاحی تنظیمیں مل کر سیلاب زدگان کو ریلیف دے سکتی ہیں،جام کمال

ٹیگز:
جام کمال
