کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) قائم مقام اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسیٰ خیل نے کہا ہے کہ موسیٰ خیل کے صوبائی اسمبلی کے حلقے کو بارکھان کے ساتھ ملحق کرنا ناقابل قبول اقدام ہے آل پارٹیز موسیٰ خیل میں شامل سیاسی جماعتوں کے وکلاء نے الیکشن کمیشن میں موسیٰ خیل کی حلقہ بندی سے متعلق درخواستیں دائر کردی ہیں، اگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو این 70اور این 50شاہراہوں پر احتجاج کا آپشن موجود ہے، یہ بات انہوں نے جمعہ کو بلوچستان اسمبلی میں جمعیت علماء اسلام کے رہنماء سابق صوبائی وزیر مولانا سرور موسیٰ خیل، پی ٹی آئی کے قربان غرشن، پیپلز پارٹی کے ظاہر خان، پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے عید محمد سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی، سردار بابر موسیٰ خیل نے کہا کہ موسیٰ خیل کے صوبائی اسمبلی کے حلقے کو بارکھان کے ساتھ ملانا ذیادتی ہے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پہلے موسیٰ خیل اور شیرانی ایک ڈویژن میں تھے اب چونکہ ڈویژن تبدیل ہوئے ہیں تو موسیٰ خیل کے حلقے کو بارکھان کے ساتھ ملا دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ موسیٰ خیل کے ساتھ تین صوبوں کی سرحد لگتی ہے آبادی کے لحاظ سے بھی موسیٰ خیل کی اپنی نشست ہونی چاہیے چار سے پانچ ایسے اضلاع بھی ہیں جنکی آبادی موسیٰ خیل سے کم ہے لیکن انکی اپنی نشستیں ہیں انہوں نے کہا کہ ہم موسیٰ خیل کی صوبائی اسمبلی کی حلقہ بندیوں کے خلاف ہر ممکن قانونی راستہ اپنائیں گے ہمارے وکلاء قانونی تقاضے پور ے کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو این 50اور این70پر احتجاج کا آپشن بھی زیر غور ہے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے رہنماء مولانا سرور موسیٰ خیل، پی ٹی آئی کے قربان غرشن، پیپلز پارٹی کے ظاہر خان، پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے عید محمد نے کہا کہ 2018میں حلقہ بندیوں میں ایک شخص نے موسیٰ خیل کم شیرانی کی نشست کو ختم کرنے کے لئے درخواست دی جو الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول جاری ہونے کے باعث قبول نہیں کی اب ہمارے حلقے کو بارکھان کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے پہلے جو حلقہ 1لاکھ 34ہزار آبادی پر مشتمل تھا اب آبادی 1لاکھ 70ہزار ہونے کے باوجود اسے الگ نہیں کیا گیا بارکھان اور موسیٰ خیل کے رسم و رواج، قبائل علیحدہ ہیں دونوں علاقوں میں دشمنیاں بھی ہیں ایسی صورتحال میں لوگ کیسے ووٹ مانگنے جائیں گے پہلے سے پسماندہ اور غربت کا شکار علاقہ اب مزید پسماندگی اور غربت کا شکار ہوگا انہوں نے کہا کہ ہم تمام قانونی راستے اپنائیں گے ہمارا مطالبہ ہے کہ موسیٰ خیل کو 2002کی پوزیشن پر نمائندگی دی جائے۔
موسیٰ خیل کے صوبائی اسمبلی کے حلقے کو بارکھان کے ساتھ ملحق کرنا ناقابل قبول اقدام ہے، سردار بابر موسیٰ خیل

ٹیگز:
موسیٰ خیل
