کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلو چستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام برو ری آخری اسٹاپ پر عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں جلسہ منعقدہواجس میں پارٹی کے کار کنان، علا قہ معتبرین اور عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی،جلسے سے خطاب کر تے ہوئے پارٹی کے مرکزی لیبر سیکر ٹری مو سیٰ بلوچ، ضلعی صدر وممبر سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی غلام نبی مری، حاجی با سط لہڑی، ضلعی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی، ضلعی انسانی حقوق سیکر ٹری پرنس رزاق بلوچ، میر غلام رسول مینگل، کامریڈ عبد العزیز بلوچ، حاجی عبد الفتح کیا زائی، نیاز محمد حسنی، ماما نور خان کیا زئی، راشد علی کیا زئی، میر عبد الحئی کیا زئی، عبد الحلیم کیا زئی، چوہدری تنویر مسیح اور حاجی محمد عارف حسنی نے کہا کہ کوئٹہ میں غیر فطری حلقہ بندیوں کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے، موجود حلقہ بندیوں میں کوئٹہ میں آباد بلوچ قوم کی شناخت اور وجود کو مکمل طورپر ختم کر نے کی کوشش اور سا زش کی گئی ہے، من پسند غیر فطری اور نا انصافیوں پر مبنی حلقہ بندیوں سے بلوچ عوام کو کوئٹہ شہر سے بے دخل کر نے اور اقلیت میں بدلنے کی فیصلو ں سے بی این پی کسی بھی صورت میں خامو شی اختیار نہیں کرے گی، پارٹی پار لیمنٹ سمیت عدلیہ الیکشن کمیشن اور عوام کی تائد و حمایت سے اس نا انصا فی کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کریں گے، مقررین نے کہا کہ حلقہ بندیاں مر دم شما ری قوموں کے وجود شناخت بقاء وسلامتی تہذیب و تمدن تر قی و خوشحالی صحت و روز گارسر کا ری دستاویزات بنیا دی ضرویا ت زند گی کی فراہمی کے لئے بنیا دی کر دار ادا کر تے جب بنیا دی کر دار کے حامل ادارے سے ایک قوم کی بقاء و شنا خت وجود کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا تا ہے تو اسے حلقہ بندیوں اور مر دم شما ری کا کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں رہتی، انہوں نے کہاکہ آج موجود حلقہ بندیوں کے حوا لے سے تمام سیا سی پارٹیوں کو تحفظات لاحق ہیں انہیں دور کر نا الیکشن کمیشن، حکومت وقت کی ذمہ داری بنتی ہے کیونکہ بلو چستان پہلے ہی سے سیا سی بحران کا شکار بلو چ عوام احساس محرومی پسماندگیوں اور حق حکمرانی کے واک و اختیار سے محروم ہیں یہی وجہ ہے کہ آج ملک کھمبیر سیا سی سما جی معا شی بحران سے دوچار ملکی اداروں میں بد ترین تذادات کش مکش سے دوچار قومی سوال کو حل کر نا بحرانوں سے نجات کا ذریعہ ہے،مقررین نے کہا کہ آج بی این پی کے خلاف مختلف مصنو عی سا زشیں جھوٹ اور غلط بیان پر مبنی پرو پیگنڈوں اور استعفیوں کے آڑ میں بلو چستا نی عوام کے ہر دل عزیز قومی جماعت جو بلو چستان کی سا ئل وساحل گوادر کی قانو ن سا زی لا کھوں کی تعداد میں افغان مہا جرین کو با عزت انخلاء، لاپتہ افراد کی با زیا بی، وفا ق میں بلو چستان کے چھ فیصد ملازمتوں کی بحالی اور بلو چستان کی اجتما عی قومی وسائل کو اجا گر کر نے اور حل کر نے کے لئے صوبے کے عوام کی مو ثر آواز اور ترجما نی کا حق ادا کر تے ہوئے گروذاتی خاندانی مفادات سے بالاتر ہو کر بلو چ قوم اور بلو چستانی عوام کی حقوق کی جنگ لڑنے میں مصروف عمل ہے، انہوں نے کہاکہ اس قومی جما عت کے راستے میں رکا وٹیں کھڑی کرنا ان قووتوں کے کا رستا نیاں ہیں جنہوں نے بلو چستان وسائل پر قبضے کر رکھا ہے، بی این پی کے ہزاروں کے تعداد میں سیا سی کارکناں عظیم بلو چ، سیا سی رہنماء راشون سر دار عطاء اللہ خان مینگل کی فکر و خیال کو پر وان چڑھانے اور قائد تحریک سر دار اختر جان مینگل کی قیادت میں ان سا زشوں کو ناکام بنا کر اپنے قومی وطنی تنظیمی سیا سی فرائض سے کسی بھی صورت میں غافل نہیں رہیں گے، اس موقع پر قبائلی رہنماء ٹکری بہادر علی کیا زئی، ماما محمد اسماعیل لہڑی، میر اصغر علی کیا زئی، میر محمد اکرم کیا زئی، بسم اللہ بلوچ، ادریس پرکا نی، حمید بلوچ اور میر عبد العلی کیا زئی ودیگر موجود تھے۔
کوئٹہ میں غیر فطری حلقہ بندیوں کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے، بلو چستان نیشنل پارٹی

ٹیگز:
بلو چستان نیشنل پارٹی
