کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان اسمبلی کے حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے بجٹ کو متوازن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ عوام کے ٹیکس سے انکی بہتری کے لئے دیا گیا ہے ماضی میں صوبے کے حلقوں میں فرق رواں رکھا گیا حکومت کو مالی نظم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، صوبے کے محاصل کے اہداف کا حصول اہم ضرورت ہے، ہفتے کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ دس منٹ کی تاخیر سے قائمقام سپیکر سردار بابر موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا اجلاس میں بی این پی کی رکن شکیلہ نویددہوار نے پوائنٹ آف آرڈرپر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان کی روایات میں خواتین کو اہم مقام حاصل ہے تاہم بلوچستان کی روایات کے برعکس گوادر میں ہونے والے جلسے و جلوسوں میں نام نہاد شخص مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے صوبے کے بچیوں کی تذلیل کی ہے جو ناقابل معافی جرم ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی سکینڈل میں طالبات وطلباء کی تذلیل‘ سردار اختر مینگل کی بیٹی کا نام لے کر ان کی ذاتی زندگی پر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کی ہے جس کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ مولانا ہدایت الرحمن کو بلوچستان کی بچیوں سے معافی مانگنی چاہیے انہوں نے کہاکہ بی ایم سی کی طالبات ہاسٹل کے مسئلے پر سراپا احتجاج ہیں۔ میں نے اس فلور پر ان مسائل کی نشاندہی کی تھی تاکہ اس معزز ایوان کے فلور سے یہ مسئلہ حل ہو جائے مگر اس پلیٹ فارم پر مسئلے کی نشاندہی کے باوجود یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکا جو میرے لئے باعث شرمندگی ہے انہوں نے کہاکہ نرسنگ کالج کی طالبات بھی سراپا احتجاج ہیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری بچیاں اور مائیں سڑکوں پر ہیں ایسے میں اس اسمبلی میں ایک خاتون ہونے کے ناطے میرا بیٹھنا کوئی معنی نہیں رکھتا انہوں نے ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔قائمقام اسپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیر صحت سید احسان شاہ کی سربراہی میں ارکان اسمبلی احتجاج کرنے والے طلباء سے مذاکرا ت کریں پشتونخوا کے رکن اسمبلی نصر ا? زیرے نے ایوان کی توجہ ہنہ اوڑک میں مقامی قبائل کے جاری احتجاج کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہاکہ کوئٹہ کے مقامی قبائل کی ہنہ اوڑک میں واقع زمینوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے جس کے خلاف وہاں ہزاروں لوگ دھرنا دیئے بیٹھے ہیں یہ اراضی ان قبائل کی ملکیت ہے انہوں نے کہا کہ ہنہ کے پہاڑوں پر فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے اور خاردار تاریں لگا کر مذکورہ اراضی پر قبضہ کیا جا رہا ہے انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان اس قبضے کا نوٹس لیتے ہوئے مقامی قبائل کے جائز مطالبات کو فی الفور تسلیم کریں انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے استدعا کی کہ وہ اس ضمن میں رولنگ جاری کریں۔صوبائی وزیر خوراک انجینئرزمرک خان اچکزئی نے مالی سال 2022-23ء کے بجٹ پر اسمبلی میں عام بحث کا آغا ز کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ڈی پی بلوچستان میں سرمایہ کاری ہے تاکہ لوگوں کے مسائل میں کمی لائی جا سکے۔بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جس کی مردم شماری میں آبادی ایک کروڑ بیس لاکھ ہے ایسے میں محدود وسائل میں رہ کر بلوچستان حکومت صوبے کی منتشر آبادی کے مسائل سو فیصد حل نہیں کرسکتی جب تک وفاق کی طرف سے بلوچستان حکومت کو سپورٹ نہیں ملے گی ان مسائل میں کمی نہیں لائی جا سکتی انہوں نے کہاکہ کمیونیکیشن‘ بارڈر‘ فوڈ سیکورٹی پروگرام کا تعلق وفاق سے ہے ساحل و وسائل وفاق کے زیر اثر ہیں ایسے میں وفاقی بجٹ میں صوبے کیلئے 60ارب روپے رکھے گئے ہیں 60ارب روپے سے ایک پل بھی تعمیر نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہاکہ گوادر سی پیک کا محور ہے اگر وہاں ہسپتال یا شاہراہ تعمیر کی جا رہی ہے تو وفاق کا ہم پر احسان نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ صوبے میں وفاق کی جانب سے کوئی میگا پروجیکٹ شروع نہیں کیا گیا بلوچستان کے پی ایس ڈی پی سے منتشر آبادی کے مسائل میں کمی نہیں آئے گی انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے بجٹ کو متوازن رکھنے کی کوشش کی گئی ہے ہمیں چاہیے کہ ہم وفاق سے اپنے صوبے کے حقوق کیلئے جمہوری طریقے سے آواز اٹھائیں انہوں نے کہاکہ وفاق سے جو شیئرز مل رہے ہیں آیا اس سے صوبے کے مسائل میں کمی آسکتی ہے انہوں نے کہاکہ کوئٹہ شہر مسائل کی آماجگاہ بن گیا ہے تو اس شہر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے صوبے میں انڈسٹریل زونز قائم کئے جائیں جس سے بیروزگاری میں کسی حد تک کمی آئے گی انہوں نے کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں بلوچستان کے سیاسی اکابرین کے ناموں سے مختلف منصوبے پی ایس ڈی پی میں شامل کئے گئے ہیں جس پر میں بلوچستان حکومت کا مشکور ہوں بجٹ میں اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اپوزیشن اراکین بھی بجٹ سے خوش ہیں جو مثبت قدم ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ بجٹ میں نان ڈویلپمنٹ پر قابو پاکر ترقیاتی بجٹ میں اضافہ ہونا چاہیے۔بی اے پی کے رکن اسمبلی حاجی اکبر آسکانی نے کہاکہ نئے مالی سال کے بجٹ سے بلوچستان کے عوام بشمول حکومت اور اپوزیشن اراکین مطمئن ہیں۔ بجٹ میں صوبے کے تمام شعبوں پر توجہ دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان اور ان کی ٹیم نے محنت کرکے ہر علاقے کے عوامی نمائندوں کی تجاویز کو بجٹ میں اہمیت دی ہے بجٹ میں عوامی منصوبے شامل کئے گئے ہیں انہوں نے کہاکہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی بھی عوام کے نمائندے ہیں جنہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا موجودہ حکومت نے تمام ارکان اسمبلی کو بلا تفریق یکساں فنڈز فراہم کئے ہیں جس سے بلوچستان میں ترقی و خوشحالی آئے گی۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی نے بجٹ کو متوازن قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2018میں حکومت کے قیام کے بعد بلوچستان میں اپوزیشن جماعتوں کے حلقوں کو نظر انداز کرکے غیر منتخب لوگوں کو فنڈز دئیے گئے گزشتہ سال اراکین اسمبلی پر بکتر بند گاڑیاں چڑھائی گئیں مقدمے بنائے گئے اراکین نے تھانوں میں کئی دن گزارے انہوں نے کہا کہ آج تمام حلقوں کے لئے جو فنڈز رکھے گئے ہیں وہ ہماری جدوجہد کا نتیجہ ہیں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی حلقے پسماندہ ہیں وہاں پینے کے پانی، صحت،تعلیم سمیت بنیادی سہولیات کا فقدان ہے ان حلقوں کو ترجیحی بنیادوں پر فنڈز جاری کئے جائیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بجلی کا شدید بحران ہے زمینداروں کے گزشتہ روز پانچ گھنٹے احتجاج کیا جس پر وزیراعلیٰ نے ان سے ملاقات کی پہلے چار گھنٹے بجلی فراہم کی جارہی تھی جس کی صورتحال اب بہتر ہوئی ہے تاہم اب بھی یہ ناکا فی ہے صوبے کی طلب 1100میگا واٹ جبکہ فراہمی 600میگا واٹ کی جارہی ہے اب تک زمینداروں کا 60ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے،اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ و سی اینڈ ڈبلیو سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ بجٹ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے جو عوام پر خرچ ہونا چاہیے موجودہ حکومت نے متوازن بجٹ پیش کرکے تمام حلقوں کو یکساں ترقی دینے کے لئے بنیاد رکھی ہے بجٹ خسارہ 87ارب سے کم کر کے 72ارب روپے کیا گیا ہے انہوں نے تجویز دی کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسلام آباد جا کر بجلی کی صورتحال کی بہتری کے لئے مشترکہ کوشش کریں اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل نے کہا کہ اسپیرہ راغہ روڈ جو 4سے 5اضلاع کے زمینی راستے کی اہم شاہراہ پر کام تاخیر کا شکار ہے حکومت اس حوالے سے فوری کاروائی کرے جس پر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے پیر کے اجلاس میں تفصیلات لیکر ایوان کو آگاہ کرنے کی یقین دہانی کروائی، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بی اے پی کے رکن میر ظہور بلیدی نے کہا کہ بجٹ صر ف اعداد وشمار نہیں بلکے صوبے میں مالی ڈسپلن، آمدنی،اخراجات اور اجتماعی ترقی کے اقدامات کا نام ہے 612ارب روپے کا بجٹ سن کر تو اچھا لگتا ہے لیکن اگر سوئی گیس کے بقایا جات حاصل نہیں ہوئے تو اس میں 526ارب روپے کے محاصل میں سے 103ارب روپے کم ہوجائیں گے جس کا براہ راست اثر پی ایس ڈی پی اور عوامی ترقی پر ہوگا اس صورتحال میں جو طاقت ور ہوگا وہ اپنے فنڈز ریلیز کروا لیگا اور کمزور کو فنڈز نہیں ملیں گے اور یکسا ں ترقی کا مقصد فوت ہوجائیگا انہوں نے کہا کہ بلوچستان ترقی، صحت، تعلیم سمیت دیگر بنیادی سہولیات کے معاملے میں پیچھے رہ گیا ہے ہمیں صرف اسکیمات کی منظور ی نہیں بلکہ انکے اجتماعی فوائد پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے بلوچستان کو معاشی نظم کی ضرورت ہے امید وزیراعلیٰ اور حکومت اس پر توجہ دیں گے اور بجٹ صرف ٹھیکے یا ٹینڈر نہیں بلکہ اسکے اثرات عوا م تک بھی پہنچیں گے بعدازاں ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل نے اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کردیا۔
ماضی میں صوبے کے حلقوں میں فرق رواں رکھا گیا ،حکومت کو مالی نظم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،اراکین بلوچستان اسمبلی

ٹیگز:
اراکین بلوچستان اسمبلی
